MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
Health

‎کورونا اور ویکسین کے بعد ہارٹ اٹیک کی شرح میں ہوشربا اضافہ

Last updated: ستمبر 8, 2025 3:43 شام
Neha Ashraf
Share
SHARE

طبی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ کورونا وبا کے بعد سب سے زیادہ اموات امراض قلب کی وجہ سے ہورہی ہیں۔

‎تفصیلات کے مطابق کورونا وبا کے بعد دنیا بھر کی طرح کراچی میں بھی ہارٹ اٹیک کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جسے طبی ماہرین نے نوٹ کیا ہے۔

‎ماہرین کے مطابق کوویڈ ویکسین لگوانے والے بعض افراد دل میں درد جیسی شکایات بھی کرتے نظر آتے ہیں، جس سے ویکسین کے بارے میں معاشرے میں ابہام پیدا ہو رہا ہے۔

‎طبی ماہرین نے تسلیم کیا ہے کہ ویکسین لگنے کے ابتدائی دنوں میں ہارٹ اٹیک سے اموات کے کیسز زیادہ رپورٹ ہوئے، لیکن چونکہ اس دوران پوسٹ مارٹمز نہیں کروائے گئے، اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ موت کی وجہ کوویڈ ہے یا کوئی اور ،اس حوالے سے تحقیق جاری ہے۔

‎اس حوالے سے جب آغا خان یونیورسٹی اسپتال کی ماہر امراض قلب (کنسلٹنٹ کارڈیولوجسٹ) ڈاکٹر فرحالا بلوچ نے بتایا کہ اگر کورونا وبا سے پہلے اور بعد کے اعداد و شمار کا موازنہ کیا جائے تو واضح فرق نظر آتا ہے۔

‎انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں بڑی تعداد میں ہارٹ اٹیک کے کیسز آتے ہیں۔بین الاقوامی رجسٹری میں آغاخان یونیورسٹی اسپتال کے اعداد و شمار دیکھے جائیں تو کورونا سے پہلے یعنی 2018 اور 2019 میں یہاں ہر سال ایک ہزار سے ڈیڑھ ہزار ایسے مریض آتے تھے جنہیں فوری انجوگرافی، انجو پلاسٹی یا بائی پاس کی ضرورت پڑتی تھی لیکن کورونا کے بعد 2021 سے 2024 تک یہ تعداد بڑھ کر ڈھائی ہزار سے تین ہزار مریض سالانہ تک پہنچ گئی ہے۔

‎یہ تعداد ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی کیونکہ اس پر کئی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں، مگر یہ اضافہ ہم نے نوٹ بھی کیا ہے اور رپورٹ بھی کیا ہے۔

‎انہوں نے بتایا کہ ہارٹ اٹیک کے سبب اموات میں کمی ضرور ہوئی ہے کیونکہ آغا خان یونیورسٹی اسپتال جدید سہولیات سے لیس ہے اور یہاں مریضوں کا علاج بہتر طریقے سے کیا جاتا ہے۔ اس وجہ سے مریضوں کی زندگیاں بچائی جاسکی ہیں۔ لیکن ایک تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اب ہارٹ اٹیک کے باعث نوجوان مریضوں میں شرح اموات بڑھ رہی ہے۔ ایسے مریض زیادہ تر 40 سال کے ہوتے ہیں اور کارڈیوجینک شاک کے باعث ان کی جان نہیں بچ پاتی۔

‎انہوں نے بتایا کہ ماضی میں دل کی بیماریاں زیادہ تر بزرگوں میں دیکھی جاتی تھیں لیکن اب 18 سال کے نوجوان بھی بڑے ہارٹ اٹیک کا شکار ہورہے ہیں۔ کچھ مریض بچ جاتے ہیں اور کچھ کو ہم بچا نہیں پاتے۔

‎ڈاکٹر فرحالا بلوچ نے کہا کہ بعض لوگوں کا تاثر ہے کہ کورونا کی وجہ سے ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ گیا ہے، لیکن صحت کے شعبے میں صرف تاثر پر فیصلے نہیں کیے جاتے، اس کے لیے ریسرچ اور کلینیکل شواہد ضروری ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں اس پر تحقیق ہورہی ہے۔ کچھ چھوٹی ریسرچز میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن افراد کو شدید کورونا ہوا اور وہ آئی سی یو یا آکسیجن پر گئے، ان کو ہارٹ اٹیک ہوئے، کورونا کے دوران پھیپھڑوں کے بعد دل دوسرا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا عضو تھا۔

‎اُن کا کہنا تھا کہ جب جسم میں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے تو دل بھی متاثر ہوتا ہے اور پھر مریض ملٹی آرگن فیلیئر میں چلا جاتا ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ کورونا انفیکشن براہِ راست ہارٹ اٹیک میں اضافے کا باعث بنا، ابھی قبل از وقت ہے۔

‎انہوں نے کہا کہ کورونا نے بالواسطہ طور پر ہارٹ اٹیک کی شرح بڑھائی ہے۔ وبا کے بعد لوگوں کی عادات بدل گئیں، ورک فرام ہوم عام ہوگیا، جس سے کام کا دباؤ اور بڑھ گیا۔ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ آسان ہے لیکن حقیقت میں یہ دگنا دباؤ تھا، خاص طور پر ورکنگ ویمن کے لیے یہ مزید مشکل تھا۔ اس کے علاوہ کھانے، نیند اور جسمانی سرگرمیوں کی عادات بھی متاثر ہوئیں۔ ہمارے کلینک میں موٹاپے کے شکار مریض آتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ کورونا کے دوران ان کا وزن بڑھ گیا اور اب وہ کم نہیں ہورہا۔

‎ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی ریسرچز سے بھی ثابت ہوا ہے کہ کورونا سے پھیپھڑوں کے بعد دل متاثر ہوا۔ کورونا کے باعث دل کے پٹھے کمزور ہوئے، ہارٹ اٹیک اور خون جمنے کے مسائل بڑھے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ کورونا کا ہلکا انفیکشن ہونے والے مریضوں میں بھی دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی، تیزی یا ہائی بلڈ پریشر کی شکایات آئیں۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article گلگت بلتستان: آلودہ پانی پینے کے سبب ہسپتال پہنچنے والوں کی تعداد  ایک ہزار کے قریب پہنچ گئی
Next Article صحت کے شعبے میں بڑی پیشرفت، قومی کینسر رجسٹری قائم کرنے کا فیصلہ
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
تپ دق صحت، سماجی اور معاشی چیلنج، مکمل خاتمہ کیا جائے گا: شہباز شریف
Health
مارچ 24, 2026
ہیپاٹائٹس سی کی زیرِ آزمائش دوا سے متعلق انکشاف
Health
مارچ 24, 2026
مریضوں کو اسٹروک سے بچانے کیلیے نئی تکنیک وضع
Health
مارچ 24, 2026
تحقیق میں نئی نسل کے ذہنی صحت خراب ہونے کی وجوہات سامنے آگئیں
Health
مارچ 24, 2026
فلو کی تمام اقسام سے تحفظ دینے والا نیزل اسپرے تیار
Health
مارچ 23, 2026
پانی میں موجود نمک خاموشی سے کروڑوں افراد کو ہائی بلڈ پریشر کا مریض بنانے لگا
Health
مارچ 23, 2026

You Might Also Like

Health

جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ متوقع ‎

By Neha Ashraf
فضائی آلودگی ذہنی صحت کے لیے بھی خطرناک قرار
Health

فضائی آلودگی ذہنی صحت کے لیے بھی خطرناک قرار

By Niaz Ali
Health

اسٹریس کی ابتدائی جسمانی اور جذباتی وارننگ علامات کیا ہیں؟

By Neha Ashraf
Health

کراچی میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث ملیریا، ڈینگی کے مریضوں میں اضافہ

By Neha Ashraf
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?