ون پیشنٹ ون آئی ڈی سسٹم کے تحت ڈیجیٹل ہیلتھ آپریشنز میں نمایاں پیش رفت سامنے آگئی ہے۔
پانچ ماہ میں پمز میں ون پیشنٹ ون آئی ڈی کے تحت 8 لاکھ 13 ہزار 361 مریض رجسٹر ہوئے،سسٹم کے تحت پمز میں 15 لاکھ 18 ہزار 360 لیبارٹری ٹیسٹس ریکارڈ کیے گئے،ایمرجنسی کاؤنٹرز پر 3 لاکھ 87 ہزار 610 مریضوں کا اندراج کیا گیا۔
پمز میں ون پیشنٹ ون آئی ڈی کے تحت 2 لاکھ 20 ہزار 67 ریڈیالوجی ٹیسٹس کیے گئے،پانچ ماہ کے دوران پمز کے ان پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ میں 29 ہزار 677 مریض داخل کیے گئے۔
اس کے علاوہ ون پیشنٹ ون آئی ڈی کے نفاذ کے لیے پمز کے دو ہزار سے زائد عملے کو تربیت دی گئی،ڈیجیٹل سسٹم کے بعد میڈیکل رپورٹس کے انتظار کا وقت کم ہو کر تین سے چار گھنٹے رہ گیا۔
پمز میں یومیہ او پی ڈی مریضوں کی تعداد 5 ہزار سے ساڑھے 7 ہزار تک اضافہ ہوا،ون پیشنٹ ون آئی ڈی سے ایمرجنسی میں یومیہ 2500 مریضوں کا اضافہ ہوا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ون پیشنٹ ون آئی ڈی کے تحت ہر مریض کو ایک منفرد ڈیجیٹل شناخت فراہم کی جا رہی ہے،ون پیشنٹ ون آئی ڈی میں سی این آئی سی نمبر مستقل میڈیکل ریکارڈ نمبر کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے مریض کا مکمل طبی ریکارڈ کسی بھی اسپتال میں دستیاب ہوتا ہے،ون پیشنٹ ون آئی ڈی غیر ضروری طبی ٹیسٹس کی تکرار کم کرنے میں مدد دے رہا ہے۔
یہ نظام علاج کے تسلسل اور مریضوں کی دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے،ون پیشنٹ ون آئی ڈی ٹیلی میڈیسن اور پبلک ہیلتھ منصوبہ بندی کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔
