سندھ حکومت نے پاکستان کے عظیم سماجی کارکن عبد الستار ایدھی کی زندگی پر فلم بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کا مقصد ان کی بے لوث خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور نئی نسل کو انسانیت کا درس دینا ہے۔
ایدھی صاحب، جنہیں "پاکستان کا مدر ٹریسا” کہا جاتا ہے، نے ساری زندگی دکھی انسانیت کی خدمت میں گزاری۔ ان کی قائم کردہ ایمبولینس سروس، لاوارث بچوں کے لیے مراکز اور فلاحی ادارے آج بھی لاکھوں افراد کو سہارا دے رہے ہیں۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق، فلم کا منصوبہ محکمہ ثقافت و اطلاعات سندھ کی زیر نگرانی مکمل ہوگا تاکہ شخصیت کی حساسیت اور حقیقت پسندی کو برقرار رکھا جا سکے۔ فلم میں ایدھی صاحب کی ابتدائی زندگی، جدوجہد، اور فاؤنڈیشن کے قیام تک کے سفر کو فلمایا جائے گا۔
سوشل میڈیا صارفین، فنکاروں اور انسانی حقوق کے کارکنان نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ فلم نوجوانوں میں خدمتِ خلق کا جذبہ اجاگر کرے گی۔
فلم کی کاسٹ اور ہدایت کار کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ پاکستانی سنیما میں ایک بڑا ثقافتی سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
ایدھی پر بننے والی یہ فلم صرف ایک بایوپک نہیں، بلکہ ایک سبق ہو گی — کہ اگر نیت خالص ہو، تو ایک فرد بھی دنیا بدل سکتا ہے۔
