شانگلہ: خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع شانگلہ کی تحصیل الپوری کے علاقے کوزہ الپوری میں ایک کچے مکان کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک بچی کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا۔ حادثہ رات کے وقت پیش آیا، جب بچے گھر کے اندر موجود تھے اور چھت اچانک زمین بوس ہو گئی۔
ریسکیو حکام کے مطابق ملبے تلے مجموعی طور پر 7 بچے دب گئے تھے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی افراد سب سے پہلے مدد کے لیے پہنچے، بعد ازاں ریسکیو ٹیموں نے بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ کافی کوشش کے بعد 6 بچوں کی لاشیں نکالی گئیں، جبکہ ایک بچی کو زخمی حالت میں نکال کر طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا۔
مقامی پولیس کے مطابق جاں بحق بچوں میں ناظرہ، سمیرا، رضوان، نایاب، حیا نور اور عمیرہ بی بی شامل ہیں۔ ان بچوں کی عمریں تقریباً 5 سے 14 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں پانچ لڑکیاں اور ایک لڑکا شامل ہیں۔
حادثے نے علاقے کی فضا سوگوار کر دی۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ خاندان پہلے ہی مشکلات کا شکار تھا، کیونکہ بچوں کے والد جہان بشر کا کچھ عرصہ قبل انتقال ہو چکا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ خاندان کا مکان کچا تھا، جو بظاہر کمزور حالت میں تھا۔
شانگلہ جیسے پہاڑی علاقوں میں کچے اور کمزور مکانات اکثر بارش، نمی یا پرانی تعمیرات کے باعث خطرناک ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے واقعات صرف ایک گھر کا نقصان نہیں رہتے، بلکہ پورے علاقے کے لیے سوال چھوڑ جاتے ہیں کہ کمزور گھروں میں رہنے والے غریب خاندانوں کی حفاظت کے لیے مقامی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے کیا اقدامات کر رہے ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ تاہم علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان کو فوری مالی مدد، زخمی بچی کے علاج اور باقی اہلِ خانہ کی بحالی کے لیے حکومتی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔
