گزشتہ چند دنوں سے ایک تصویر سوشل میڈیا پر مسلسل گردش کر رہی ہے، اور سچ پوچھیں تو اسے دیکھ کر حیرت بھی ہوتی ہے اور رُک کر دوبارہ دیکھنے کو دل بھی چاہتا ہے۔ تصویر میں ایک اسکائی ڈائیور سورج کے عین سامنے سے گرتا ہوا نظر آتا ہے، جیسے کوئی آج کا آئیکرس آسمان سے آگ میں اتر رہا ہو۔
یہ منظر جتنا ناقابلِ یقین لگتا ہے، اتنا ہی حقیقی بھی ہے — اور اس کے پیچھے کی کہانی مزید دلچسپ ہے۔
یہ تصویر، جس کا عنوان ’’دی فال آف آئیکرس‘‘ رکھا گیا ہے، امریکی ریاست ایریزونا کے مشہور ایسٹروفوٹوگرافر اینڈریو مکارتھی نے لی ہے۔ انہوں نے اس کے لیے اسکائی ڈائیور گیبریئل سی براؤن کے ساتھ مل کر ایک ایسا تجربہ کیا جسے آسان الفاظ میں ’ناممکن کو ممکن بنانا‘ کہا جاسکتا ہے۔ براؤن تقریباً 3500 فِٹ کی بلندی سے چھلانگ لگاتے ہیں، جبکہ مکارتھی ایک میل سے زیادہ فاصلے پر اپنے خصوصی ہائڈروجن-الفا ٹیلی اسکوپ کے ساتھ سورج پر فوکس رکھتے ہیں۔ یہی ٹیلی اسکوپ عام طور پر سورج کے بیرونی حصے، یعنی کروموسفیئر، کی تفصیل کھینچنے کے لیے استعمال ہوتا ہے — انسانوں کے لیے نہیں۔
یہ کوئی قسمت یا ایک لمحے کی کامیابی نہیں تھی۔ دونوں نے اس شاٹ کے لیے چھ مرتبہ کوشش کی۔ ذرا سوچیں: اتنی زیادہ زوم والی ٹیلی اسکوپ میں انسان کو فریم میں لانا، وہ بھی ایک ایسے لمحے میں جب وہ تیزی سے نیچے گِر رہا ہو — معمولی سی غلطی پوری تصویر کو بیکار کر دیتی۔ مکارتھی کے مطابق اس منصوبے کی تیاری ’’بالکل پاگل پن‘‘ تھی۔
لیکن پھر وہ لمحہ آیا جب سب کچھ ایک ساتھ بیٹھ گیا — جہاز کی پوزیشن، چھلانگ کا وقت، سورج کا زاویہ، موسم، اور مکارتھی کا کیمرہ۔ اسی ایک کامل لمحے نے وہ تصویر تخلیق کی جس نے انٹرنیٹ پر تہلکہ مچا دیا ہے: سیاہ سایہ، سرخ جلتے سورج کے سامنے، جیسے انسان اور ستارہ ایک ہی فریم میں قید ہو گئے ہوں۔
یقیناً، حقیقت کچھ اور ہے۔ اسکائی ڈائیور زمین کے بالکل قریب ہے اور سورج 93 ملین میل دور۔ یہ سارا کام زاویے اور سیدھ (alignment) کا کمال ہے۔ لیکن تصویر کی طاقت یہی ہے کہ وہ لمحہ حقیقت اور دیومالا کے درمیان لکیر دھندلا دیتی ہے۔
سوشل میڈیا پر لوگ اسے ’’ناقابلِ یقین‘‘، ’’سال کی بہترین تصویر‘‘ اور ’’حقیقی آرٹ‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ کچھ نے اسے جعلی سمجھا، یہاں تک کہ مکارتھی نے پس منظر کی ویڈیوز اور تفصیلات شیئر کیں — جس میں تیاری، آلات اور کئی ناکام کوششیں شامل تھیں۔
آج کے دور میں جب اکثر تصاویر فلٹرز اور کمپیوٹر ایڈیٹنگ کے سہارے بنتی ہیں، یہ تصویر صرف ایک بےوقوفانہ خیال، سخت محنت، اور دو لوگوں کے جنون کی بدولت کامیاب ہوئی۔ اور شاید اسی لیے یہ دل کو چھو جاتی ہے۔
