طوفان راگاسا نے ہانگ کانگ اور تائیوان کو شدید تباہی سے دوچار کر دیا
طوفان راگاسا نے ہانگ کانگ اور جنوبی چین کو زبردست
رشوں اور ہواؤں سے متاثر کیا، جبکہ تائیوان کے مشرقی صوبے ہوالیئن (Hualien) میں ایک بند جھیل پھٹنے سے کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے اور 120 سے زائد لاپتہ ہیں۔
تائیوان کی آگاہی کے مطابق، بارشوں کی شدت کے باعث ہوالیئن میں ایک بند جھیل (barrier lake) نے اپنی بندیں توڑ دیں، جس کے نتیجے میں پانی ایک قصبے گوانگفو (Guangfu) کی طرف بھاگ گیا۔
وہاں رہنے والے افراد نے بتایا کہ پانی نے سڑکیں چھینی، گاڑیاں بہا دیں، اور ایک پل کو بھی نقصان پہنچایا۔
متاثرہ علاقے میں 129 سے 152 افراد لاپتہ ہیں، اور ریسکیو ٹیمیں دروازے دروازے تلاشی مہم چلا رہی ہیں۔
ہانگ کانگ میں طوفان کی شدت نے ساحلی علاقوں کو زیرِ آب کیا، ہواؤں نے عمارات کو نقصان پہنچایا، درخت اُکھاڑے گئے، اور شہروں کی سرگرمیاں تقریباً معطل ہوگئیں۔
ہوائی اڈے بند ہوئے، اسکول اور کاروبار بند کیے گئے، اور لوگ حفاظتی مراکز میں منتقل کیے گئے۔
چین کے صوبے گوانگڈونگ میں حکام نے ایک لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا، اور سمندری محکمے نے 2.8 میٹر تک کی طوفانی لہروں کی وارننگ جاری کی۔
طوفان راگاسا نے گزشتہ دنوں فلپائن کو بھی متاثر کیا ہے، جہاں مچھلی بازوں سمیت متعدد افراد ہلاک یا لاپتہ ہوئے۔
راگاسا اس سال کا سب سے طاقتور ٹروپیکل سائیکلون قرار دیا جا رہا ہے، جو بحرِ مغربی پیسفک میں انتہائی حالات کی بنا پر تیز ہوا اور بارشوں کے ساتھ شدت اختیار کر گیا۔
تائیوان طوفان زدہ علاقہ ہے اور اس نے ماضی میں بہتر پیش بندی نظام اپنایا ہے، مگر اس بار بعض مقامی افراد نے شکایت کی کہ بروقت وارننگ نظام کام نہ آیا۔
چین اور ہانگ کانگ میں انفراسٹرکچر مزاحم بنا ہوا ہے، مگر شدید سمندری طوفان اور بڑھی ہوئی لہروں نے ایسے نقصانات دیے جو مقامی دفاعی نظام کے لیے چیلنج ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ طوفان کے اثرات مزید کئی دنوں تک جاری رہ سکتے ہیں
