MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
کھیل

“دوڑتی دنیا، رُکتا پاکستان: ایتھلیٹکس کی زبوں حالی کی داستان”

Last updated: اگست 10, 2025 1:59 شام
Salman Khan
Share
SHARE

"نہ ٹریک، نہ کوچ: ایتھلیٹکس پاکستان میں پس منظر میں کیوں چلا گیا؟”
رپورٹ: Ayan

ایتھلیٹکس، جسے کھیلوں کی ماں کہا جاتا ہے، پاکستان میں دن بدن نظر انداز ہوتا جا رہا ہے۔ دوڑ، لانگ جمپ، ہائی جمپ، جیولن تھرو، شاٹ پٹ، اور دیگر بنیادی کھیل اب اسکولوں اور کالجوں سے تقریباً غائب ہو چکے ہیں۔ یہ صورتِ حال اس وقت مزید تشویشناک ہو جاتی ہے جب ملک کی نمائندگی کے لیے بین الاقوامی ایونٹس میں ایتھلیٹس کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہو۔

ایتھلیٹکس فیڈریشن آف پاکستان کے مطابق، 2025 تک پورے ملک میں رجسٹرڈ ایتھلیٹس کی تعداد صرف 2,700 رہ گئی ہے، جو 2010 میں 7,500 تھی۔ ملک بھر میں صرف 17 ایسے ٹریک موجود ہیں جو کسی حد تک بین الاقوامی معیار پر پورے اترتے ہیں — ان میں سے بھی اکثر خراب حالت میں ہیں۔

کراچی کے علاقے ناظم آباد میں واقع عبدالستار ایدھی اسپورٹس کمپلیکس میں موجود ٹریک کی حالت قابلِ رحم ہے۔ وہاں پریکٹس کرنے والے نوجوان ایتھلیٹ جنید اکرم بتاتے ہیں:
"ہم ننگے پیر یا گھاس پر پریکٹس کرتے ہیں، کوئی کوچ نہیں، کوئی سہولت نہیں۔ اگر موقع ملے تو ہم بھی انٹرنیشنل لیول پر جا سکتے ہیں۔”

اسی طرح لاہور، فیصل آباد، اور پشاور میں بھی بیشتر اداروں کے پاس ایتھلیٹکس کے لیے نہ ٹریک ہیں نہ کوچز۔ اکثر طلبہ فٹبال یا کرکٹ کی طرف چلے جاتے ہیں کیونکہ وہاں زیادہ مواقع اور توجہ موجود ہے۔

خواتین ایتھلیٹس کو درپیش مسائل اس سے کہیں زیادہ سنگین ہیں۔ ان کے لیے علیحدہ ٹریک نہ ہونے، لباس کی حساسیت، اور والدین کے خدشات کے باعث زیادہ تر لڑکیاں کالج کے بعد کھیل ترک کر دیتی ہیں۔

ڈاکٹر آمنہ رفیق، جو نیشنل یونیورسٹی کی فزیکل ایجوکیشن پروفیسر ہیں، کہتی ہیں:
"ہمیں نچلی سطح پر ایتھلیٹکس کو بحال کرنا ہوگا، ورنہ پاکستان اولمپکس جیسے مقابلوں میں صرف تماشائی ہی بنا رہے گا۔”

ایتھلیٹکس فیڈریشن کی محدود فنڈنگ اور حکومتی اداروں کی غفلت اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ اگرچہ بعض NGOs ایتھلیٹکس کی تربیت کے لیے سرگرم ہیں، لیکن یہ اقدامات ملک گیر سطح پر ناکافی ہیں۔

یہ وقت ہے کہ کھیلوں کے حکام، تعلیمی ادارے، اور میڈیا مل کر ایتھلیٹکس جیسے بنیادی کھیل کو دوبارہ زندہ کریں، تاکہ پاکستان بھی عالمی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائے۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article دانانیر مبین والدہ کے ہمراہ تھائی لینڈ کی سیر پر روانہ، خوبصورت لمحات مداحوں کے نام
Next Article زلزلے کے دوران ملیر جیل سے فرار ہونے والا قیدی خودکشی کر کے ہلاک
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
لاہور میں چیف منسٹر ایڈلٹ کارڈیک سرجری پروگرام کا آغاز
Health
مارچ 25, 2026
چیا سیڈز ہر کسی کیلئے مفید نہیں: طبی ماہرین کی اہم وارننگ
Health
مارچ 25, 2026
وزن میں کمی سے مدافعتی نظام بہتر، کینسر کا خطرہ کم ہو جاتا ہے
Health
مارچ 25, 2026
ہائی کولیسٹرول دبلے افراد میں بھی دل کے دورے کا سبب بن سکتا ہے، ماہر امراض قلب
Health
مارچ 25, 2026
تپ دق صحت، سماجی اور معاشی چیلنج، مکمل خاتمہ کیا جائے گا: شہباز شریف
Health
مارچ 24, 2026
ہیپاٹائٹس سی کی زیرِ آزمائش دوا سے متعلق انکشاف
Health
مارچ 24, 2026

You Might Also Like

کھیل

اظہر محمود کا عبوری کوچ کے طور پر عہدہ ختم، پاکستان ریڈ بال ٹیم نئے کوچ کی تلاش میں

By Salman Khan
کھیل

بابر اعظم نے ٹی ٹوئنٹی میں عمر اکمل کے ناگوار ریکارڈ کی برابری کر دی

By Salman Khan
پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے کہا ہے کہ انہوں نے سابق کپتان بابر اعظم اور محمد رضوان کو اسٹرائیک ریٹ بہتر بنانے کا مشورہ دیا ہے۔ دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس کے دوران پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے کہا کہ بابر اعظم اور محمد رضوان کی کارکردگی میں بہتری کے لیے ان کی کمزوریوں پر کام کرنا ضروری ہے، خصوصاً اسٹرائیک ریٹ کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں مائیک ہیسن نے تسلیم کیا کہ انہوں نے بابر اعظم اور محمد رضوان کی حالیہ پرفارمنس اور اسٹرائیک ریٹ پر کھل کر بات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید کرکٹ میں اسٹرائیک ریٹ کا اہم کردار ہے، اس لیے کھلاڑیوں کو اس پہلو پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ کھلاڑیوں کے ساتھ ایمانداری سے بات کرتے ہیں اور انہیں ان کی کمزوریوں سے آگاہ کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی کارکردگی میں بہتری لا سکیں۔
کھیل

بابراعظم اور رضوان کو سٹرائیک ریٹ بہتر کرنے کی ضرورت ہے : مائیک ہیسن

By Niaz Ali
تازہ ترینکھیل

ہانگ کانگ سکسز عباس آفریدی کے 55 رنز نے پاکستان کو کامیابی دلادی

By Salman Khan
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?