پاکستان میں تمباکو نوشی اب محض ایک بری عادت نہیں بلکہ ایک سنگین انسانی بحران بن چکی ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق تمباکو سے جڑی بیماریاں ہر سال ایک لاکھ 64 ہزار پاکستانیوں کی جان لے رہی ہیں—یہ تعداد ٹی بی، ایچ آئی وی ایڈز اور ٹریفک حادثات میں ہونے والی مجموعی ہلاکتوں سے بھی کہیں زیادہ ہے۔
یہ بحران صرف ہسپتالوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک کی معیشت کو بھی دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج پر سالانہ تقریباً 615 ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ اس کے برعکس، حکومت کو تمباکو کی صنعت سے ٹیکس کی مد میں سالانہ صرف 120 ارب روپے حاصل ہوتے ہیں۔ اعداد و شمار کا یہ فرق واضح کرتا ہے
کہ ریاست سگریٹ ٹیکس سے جتنا ایک روپیہ کماتی ہے، اس کے بدلے اسے پانچ روپے صحت کے نقصانات پر خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ پالیسی رپورٹس کا گہرا مطالعہ رکھنے والے ایک ماہرِ صحت نے صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ "ہم درحقیقت اپنی بربادی کو خود ہی سہارا دے رہے ہیں۔ تمباکو کی صنعت اپنے ٹیکسوں کا ڈھنڈورا تو پیٹتی ہے لیکن ہسپتالوں پر پڑنے والے اس بھاری بوجھ اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر خاموش رہتی ہے۔” اس صورتحال کا سب سے خوفناک پہلو نوجوان نسل کا اس لت میں مبتلا ہونا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے اعداد و شمار بتاتے ہیں
کہ ملک میں روزانہ تقریباً 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔ یہ بچے تمباکو کمپنیوں کے لیے مستقبل کے مستقل گاہک تو بن رہے ہیں، لیکن ساتھ ہی ایک ایسے نظامِ صحت کے لیے نئے مریض بھی تیار ہو رہے ہیں جو پہلے ہی اپنی سکت سے زیادہ بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ حکومتی سطح پر سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) بڑھانے کی کوششیں تو کی جاتی ہیں
لیکن تمباکو مافیا کا اثر و رسوخ اکثر ان اقدامات کو کمزور کر دیتا ہے۔ طبی ماہرین کا اصرار ہے کہ سگریٹ پر ٹیکسوں کا موجودہ ڈھانچہ اتنا کمزور ہے کہ یہ نوجوانوں کو تمباکو سے دور رکھنے میں ناکام ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) بھی بارہا کہہ چکا ہے کہ سگریٹ کی خوردہ قیمت کا کم از کم 70 فیصد حصہ ٹیکس پر مشتمل ہونا چاہیے، مگر پاکستان فی الحال اس عالمی معیار سے بہت پیچھے ہے۔
جب تک ریاست قلیل مدتی ٹیکس آمدن کے بجائے طویل مدتی عوامی صحت کو ترجیح نہیں دے گی، موت کا یہ رقص نہیں رکے گا۔ اب فیصلہ پالیسی سازوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ چند ارب روپے کی آمدن کو عزیز رکھتے ہیں یا ان ہزاروں خاندانوں کو جو ہر سال اپنے کفیلوں سے محروم ہو کر غربت کی دلدل میں جا گرتے ہیں۔
