کراچی کے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) نے طبی تحقیق کے اعداد و شمار میں مبینہ ردوبدل کی تحقیقات کیلئے ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ فیصلہ ہسپتال کے اندرونی حلقوں میں سامنے آنے والی ان رپورٹس کے بعد کیا گیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھ
ا کہ حالیہ تحقیقی نتائج کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ جے پی ایم سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر شاہد رسول نے منگل کے روز کمیٹی کے قیام کی تصدیق کی۔ اس پینل میں ہسپتال کے سینئر فیکلٹی ممبران شامل ہیں، جنہیں یہ تعین کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ آیا تحقیق کے دوران طے شدہ پروٹوکولز کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں۔ تحقیقات کا مرکزی نقطہ ہسپتال کے ریسرچ ونگ میں ہونے والی کلینیکل اسٹڈیز ہیں
۔ طبی حلقوں میں خدشات پائے جاتے ہیں کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو ہسپتال کی تعلیمی ساکھ متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ شائع شدہ تحقیقی مقالوں کو واپس بھی لیا جا سکتا ہے۔
ہسپتال کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم ان الزامات کی صداقت کی جانچ کر رہے ہیں۔ اگر اعداد و شمار میں واقعی ہیر پھیر کی گئی ہے تو ادارے کی تحقیقی ساکھ کیلئے اس کے نتائج سنگین ہوں گے۔” کمیٹی کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ مریضوں کے اصل ریکارڈ کا موازنہ شائع شدہ اعداد و شمار سے کرے۔ تحقیقاتی پینل کو اپنی رپورٹ سات روز کے اندر جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سندھ کے اس سب سے بڑے سرکاری ہسپتال کو ماضی میں بھی انتظامی اور تعلیمی نگرانی کے حوالے سے تنقید کا سامنا رہا ہے۔ تاہم، یہ پہلا موقع ہے کہ جے پی ایم سی نے سائنسی دیانتداری کے معاملے پر کسی اندرونی بدعنوانی کا عوامی سطح پر اعتراف کیا ہے۔ ہسپتال انتظامیہ نے تحقیقات جاری ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے ملوث محققین کے نام ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ کمیٹی ایک شفاف نتیجہ دے پائے گی یا یہ معاملہ ماضی کی طرح کسی ٹھوس کارروائی کے بغیر ختم ہو جائے گا۔ کمیٹی کی حتمی رپورٹ ہی یہ طے کرے گی کہ آیا یہ معاملہ صرف محکمانہ تادیبی کارروائی تک محدود رہے گا یا اسے صوبائی محکمہ صحت کی قانونی جانچ پڑتال کے حوالے کیا جائے گا۔
