کھٹمنڈو — نیپال کے ضلع کاورے پالن چوک میں مون سون کی تباہ کاریوں کے دوران ایک معجزہ پیش آیا، جہاں 45 سالہ سنیتا کارکی اپنے ہی گھر کے ملبے تلے تین دن تک دبی رہنے کے باوجود زندہ بچ گئیں۔
گزشتہ ہفتے پہاڑی تودے گرنے سے سنیتا کا گھر مکمل طور پر زمین بوس ہو گیا تھا۔ وہ گھر کے اندر ایک ایسے چھوٹے سے خلا میں پھنس گئی تھیں جہاں بھاری شہتیروں اور چھت کے ملبے نے انہیں کچلے جانے سے تو بچا لیا، لیکن باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔
"دوسری رات تک میں نے امید چھوڑ دی تھی،” سنیتا نے بازیابی کے بعد مقامی طبی عملے کو بتایا۔ "پانی اندر رس رہا تھا اور سردی ناقابل برداشت ہو چکی تھی۔”
امدادی کاموں میں مصروف مقامی رضاکاروں کے مطابق، سنیتا کی موجودگی کا علم تب ہوا جب ایک پڑوسی نے ملبے کے ڈھیر میں معمولی حرکت دیکھی۔ امدادی کارروائی چھ گھنٹے تک جاری رہی، جس میں بھاری مشینری کا استعمال ممکن نہیں تھا کیونکہ اس سے ملبہ مزید دھنسنے کا خطرہ تھا۔ رضاکاروں نے اپنے ہاتھوں سے مٹی ہٹا کر انہیں باہر نکالا۔
مقامی رضاکار رمیش تھاپا، جنہوں نے اس آپریشن کی قیادت کی، کہتے ہیں، "ہم ننگے ہاتھوں سے کھدائی کر رہے تھے کیونکہ مشین اسے کچل سکتی تھی۔ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ ہم لاش نکال رہے ہیں یا زندہ انسان، یہاں تک کہ انہوں نے اپنی آنکھیں جھپکائیں۔”
نیپال میں اس بار مون سون کی بارشوں نے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مواصلاتی نظام درہم برہم ہے اور کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اب تک سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔
سنیتا کارکی اس وقت کھٹمنڈو کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ ان کی ٹانگوں پر شدید زخم آئے ہیں اور وہ پانی کی کمی کا شکار ہیں، تاہم ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔
اس تباہی نے کاورے پالن چوک کے جغرافیے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ امدادی ٹیمیں اب بھی ملبے تلے دبے دیگر افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، لیکن بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کے باعث ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
ہسپتال کے بیڈ پر پڑی سنیتا کی کہانی اس سیلاب کی تباہ کاریوں کے درمیان ایک استثنائی مثال ہے۔ انہوں نے اپنی بیٹی سے کل بات کرتے ہوئے بس اتنا کہا: "میں زندہ تو ہوں، مگر اب میرے پاس واپس جانے کے لیے کچھ بھی نہیں بچا۔”
