امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک صدر رجب طیب اردوان کو مشورہ دیا ہے کہ ترکیہ کو روس سے تیل اور گیس خریدنے پر انحصار کم کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ ترکیہ کے لیے بہتر ہوگا اگر وہ روسی توانائی پر انحصار کم کر دے۔‘‘
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق صدر اردوان 2019 کے بعد پہلی مرتبہ وائٹ ہاؤس پہنچے، جہاں ان کا اہم مقصد امریکہ سے ایف-35 لڑاکا طیاروں کی دوبارہ خریداری پر بات چیت تھا۔ یہ پروگرام اس وقت معطل ہوا تھا جب ترکیہ نے روس سے ایس-400 ایئر ڈیفنس سسٹم خریدا تھا، جس پر امریکی حکام کو حساس ٹیکنالوجی کے افشا ہونے کا خدشہ تھا۔
اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ بات چیت کسی نتیجے پر پہنچے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’انہیں کچھ چیزوں کی ضرورت ہے، ہمیں کچھ چیزوں کی ضرورت ہے، اور دن کے اختتام تک سب واضح ہو جائے گا۔‘‘
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہیں لگتا ہے صدر اردوان اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے۔ دوسری جانب اردوان نے واضح کیا کہ ایف-35 کی خریداری پر پابندی ختم ہونا ان کے دورے کا اہم ہدف ہے اور وہ اس معاملے پر ’’تفصیل سے بات کرنے‘‘ کے لیے تیار ہیں۔
امریکی صدر نے ترکیہ کے روس سے توانائی کے معاہدوں پر بھی بات کی اور کہا کہ یورپی یونین کی پابندیوں کے بعد ترکیہ روسی فوسل فیول کا سب سے بڑا خریدار بن گیا ہے، جو اب تک 90 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی خریداری کر چکا ہے۔
ٹرمپ نے زور دیا کہ اگر ترکیہ روس سے توانائی کی درآمدات کم کرے تو اس سے دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات میں مثبت پیش رفت ممکن ہو گی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اردوان کے پاس روسی صدر ولادیمیر پوتن اور یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی دونوں کا اعتماد ہے، اور وہ چاہیں تو روس-یوکرین جنگ بندی میں ’’اہم کردار‘‘ ادا کر سکتے ہیں۔
