اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور پاکستان سے افغان مہاجرین کی بڑی تعداد کی واپسی سے افغانستان میں سنگین انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔
یو این ایچ سی آر کے نمائندے عرفات جمال نے کابل سے آن لائن بریفنگ کے دوران بتایا کہ حالیہ مہینوں میں 16 لاکھ سے زائد افغان شہری، زیادہ تر ایران سے، واپس آ چکے ہیں۔
انہوں نے اس واپسی کو "غیر منظم، تکلیف دہ اور وسیع پیمانے پر” قرار دیا، اور کہا کہ زیادہ تر خاندان تھکے ہوئے، پریشان اور وسائل کے بغیر واپس آ رہے ہیں۔
اسلام قلعہ بارڈر پر روزانہ 30,000 سے زائد افراد کی آمد سے صورتحال مزید بگڑ چکی ہے۔
یو این ایچ سی آر اور اس کے شراکت دار ادارے ہنگامی امداد فراہم کر رہے ہیں، جن میں صاف پانی، طبی سہولیات، خوراک اور ویکسینیشن شامل ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے عالمی برادری سے فوری فنڈنگ کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں بے گھری، غذائی قلت اور صحت کے بحران پیدا ہو سکتے ہیں، خاص طور پر خواتین اور بچوں کے لیے۔
یو این نے زور دیا کہ صرف ہنگامی امداد کافی نہیں بلکہ طویل المدتی بحالی اور انضمام کی حکمت عملی بھی ضروری ہے تاکہ افغان واپس آنے والے اپنی زندگی دوبارہ شروع کر سکیں۔
