جوناس ونگگارڈ نے جائرو ڈی اٹالیا کا ٹائٹل اپنے نام کر کے سائیکلنگ کی دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ روم کی سڑکوں پر آخری لائن عبور کرتے ہی ڈینش سائیکل سوار نے نہ صرف یہ ریس جیتی، بلکہ ‘گرینڈ ٹور’ ٹرائیکا (ٹور ڈی فرانس، ووئلٹا اور جائرو) مکمل کرنے والے چند خوش نصیب ایتھلیٹس کی فہرست میں شامل ہو گئے۔
ونگگارڈ کے لیے یہ جیت محض ایک ٹرافی نہیں، بلکہ ان کی حکمت عملی کی شاندار کامیابی ہے۔ ریس کے دوسرے ہفتے میں انہوں نے اونچے پہاڑی سلسلوں پر جس طرح حریفوں کو پیچھے چھوڑا، وہ ان کی تکنیکی برتری کا ثبوت تھا۔ جہاں باقی سوار طویل فاصلے کے حملوں پر انحصار کر رہے تھے، ونگگارڈ نے اپنی ٹیم کی جانب سے طے کردہ سخت اور نپی تلی رفتار کو برقرار رکھا۔
ان کی فتح کا مارجن ان کی برتری کی گواہی دیتا ہے۔ روم پہنچتے پہنچتے دوسرے نمبر پر موجود سائیکل سوار ان سے چار منٹ سے زائد پیچھے تھا۔ یہ فرق بتاتا ہے کہ موجودہ پروفیشنل سرکٹ میں ونگگارڈ اور دیگر سواروں کے درمیان کتنا بڑا خلا حائل ہے۔
پوڈیم پر ایوارڈ وصول کرنے کے بعد ونگگارڈ نے صحافیوں سے مختصر گفتگو میں کہا، "یہ ایک خواب جیسا ہے۔ جب میں نے پروفیشنل کیریئر شروع کیا تھا تو ان تینوں ٹورز کو جیتنے کا سوچا بھی نہیں تھا۔ اب جب یہ مکمل ہو چکا ہے، تو بس اس محنت کو محسوس کرنے کا وقت ہے۔”
یہ کامیابی انہیں ایڈی مرکس، برنارڈ ہینالٹ، کرس فروم اور تادی پوگاچار جیسے لیجنڈز کی صف میں کھڑا کرتی ہے جنہوں نے اٹلی، فرانس اور اسپین کے تینوں بڑے ٹورز جیتے ہیں۔ ونگگارڈ کی خاصیت یہ ہے کہ وہ مشکل ترین پہاڑی چڑھائیوں کے بعد بھی اپنی توانائی بحال کرنے میں ماہر ہیں۔
ریس سے قبل ماہرین کو شک تھا کہ کیا سیزن کے شروع میں ہونے والے حادثات کے بعد ونگگارڈ تین ہفتوں تک جاری رہنے والی اس تھکا دینے والی ریس میں اپنی فارم برقرار رکھ پائیں گے؟ انہوں نے ‘سٹیلویو’ کی ڈھلوانوں پر یہ شک دور کر دیا، جہاں انہوں نے ایسی رفتار پکڑی کہ ان کے ساتھی سوار بھی ان کا پیچھا کرنے سے قاصر رہے۔
اس جیت کے بعد اب سائیکلنگ کی دنیا میں یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا ونگگارڈ اپنے ٹور ڈی فرانس ٹائٹل کا دفاع کریں گے یا ورلڈ چیمپئن شپ پر توجہ مرکوز کریں گے۔ فی الحال، سائیکلنگ کی دنیا ایک ایسے سوار کے سامنے ہے جس نے جدید اسٹیج ریسنگ کی پہیلی کو حل کر لیا ہے۔
ونگگارڈ اب صرف ریس نہیں جیتتے، بلکہ وہ اپنی جیت کو ایک ناگزیر حقیقت بنا دیتے ہیں۔ چاہے اسپین کی شدید گرمی ہو یا اٹلی کی تکنیکی اترائیاں، نتیجہ پہلے سے معلوم ہوتا ہے۔ اب پیلوٹن کے لیے سوال یہ نہیں کہ انہیں کیسے ہرایا جائے، بلکہ یہ ہے کہ ان کی رفتار کے ساتھ کیسے رہا جائے۔
