تعز اور مأرب کے محاذوں پر تازہ لڑائی نے یمن میں انسانی بحران کو ایک بار پھر شدت بخش دی ہے۔ مقامی امدادی کارکنوں اور نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے مطابق، گزشتہ چند دنوں میں شدید گولہ باری اور جھڑپوں کے بعد سینکڑوں خاندان اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اپنا سامان سمیٹنے کا وقت تک نہیں تھا۔ تعز کے قریب ایک گاؤں سے فرار ہونے والے احمد السامی نے بتایا، "ہمیں صبح سویرے گولہ باری کی آوازیں سنائی دیں۔ ہم صرف وہی کپڑے پہن کر نکل سکے جو اس وقت ہمارے جسم پر تھے۔”
یہ صورتحال یمن کے ان علاقوں میں ایک بار پھر بے یقینی کا باعث بنی ہے جہاں کچھ عرصہ قبل تک نسبتاً خاموشی تھی۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور کے مطابق، گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
نئی نقل مکانی کرنے والوں کے لیے بنائے گئے عارضی کیمپوں میں بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ پہلے سے موجود خیمہ بستیوں میں خوراک، صاف پانی اور ادویات کی قلت ہے، جبکہ نئے آنے والوں کی آمد نے ان وسائل پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔ مأرب کے ایک مقامی کلینک کے ڈاکٹروں نے صورتحال کو "وقت کے ساتھ دوڑ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ مریضوں کی بڑی تعداد جھٹکے اور پانی کی کمی کا شکار ہے۔
اس لڑائی نے ملکی معاشی حالات کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور کرنسی کی گرتی ہوئی قدر کے باعث نقل مکانی کے اخراجات بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکے ہیں۔ بہت سے خاندان اپنی آخری جمع پونجی کرائے پر خرچ کر کے کیمپوں تک پہنچے ہیں، جہاں اب وہ خالی ہاتھ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔
امدادی تنظیمیں اب فوری طور پر انسانی راہداریوں کے قیام کا مطالبہ کر رہی ہیں تاکہ طبی امداد اور خوراک متاثرہ علاقوں تک پہنچائی جا سکے۔ تاہم، جب تک گولہ باری کا سلسلہ نہیں رکتا، ان خاندانوں کے لیے اپنے گھروں کو واپسی یا کسی محفوظ ٹھکانے پر مستقل قیام کا خواب دور کی بات ہے۔
احمد جیسے ہزاروں افراد اب خیموں میں بیٹھے اس امید پر ہیں کہ گولہ باری تھم جائے گی، لیکن ان کے پاس فی الحال زندگی بچانے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔
