کراچی — پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں عمارتیں گرنے کے واقعات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ حالیہ واقعہ لیاری کے علاقے بغدادی میں پیش آیا، جہاں ایک پانچ منزلہ رہائشی عمارت منہدم ہو گئی، جس میں اب تک 14 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں خواتین، مرد اور ایک بچہ شامل ہے، جبکہ 30 کے قریب افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
حادثے کی تفصیلات
یہ عمارت 1974 میں تعمیر کی گئی تھی اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کی جانب سے اسے خطرناک قرار دیا جا چکا تھا۔ لیکن رہائشی افراد کو کئی بار نوٹس جاری ہونے کے باوجود وہ عمارت خالی نہ کر سکے۔ کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ 400 سے زائد عمارتیں شہر بھر میں خطرناک قرار دی جا چکی ہیں، مگر حکومت کی نرم پالیسی اور عوام کی عدم سنجیدگی جانیں نگل رہی ہے۔
“یہ افسوسناک واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب حکومت کوئی انتباہ دیتی ہے تو اُسے سنجیدگی سے لینا چاہیے،” میئر نے کہا۔
گزشتہ واقعات — تاریخ خود کو دہرا رہی ہے
یہ پہلا واقعہ نہیں۔
-
2020 میں کراچی کے علاقے گولیمار میں رہائشی عمارت گرنے سے 17 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
-
2019 میں رضویہ سوسائٹی میں چار منزلہ عمارت گرنے سے 10 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔
-
2012 میں لیاقت آباد میں بھی چھ منزلہ عمارت گرنے سے 20 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
ہر بار تحقیقات، کمیشنز اور دعوے کیے جاتے ہیں مگر نتائج صفر۔
خطرناک عمارتوں کی تعداد اور رہائشی شرح
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق کراچی میں 578 عمارتیں ایسی ہیں جنہیں "ناقابلِ رہائش” قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر ضلع جنوبی میں واقع ہیں، جہاں لیاری، صدر، رنچھور لائن اور گارڈن جیسے گنجان آباد علاقے شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں تقریباً 18 سے 22 فیصد آبادی ایسی عمارتوں میں رہائش پذیر ہے جو یا تو بغیر منظوری کے تعمیر کی گئی ہیں یا وقت گزرنے کے ساتھ خستہ حال ہو چکی ہیں۔ کچھ علاقوں میں 60-80 گز کے پلاٹس پر پانچ پانچ منزلہ عمارتیں بنا دی گئی ہیں، جو مکمل طور پر انجینئرنگ قوانین کے خلاف ہیں۔
ریسکیو آپریشن اور حکومتی ردعمل
ریسکیو ٹیمیں جدید آلات جیسے "ٹراپٹ پرسن لوکیٹر” (Heartbeat Detector) استعمال کر رہی ہیں تاکہ زندہ افراد کو تلاش کیا جا سکے۔ رات بھر جاری رہنے والے آپریشن کے لیے فلڈ لائٹس لگائی جا رہی ہیں۔ 1122، رینجرز، پولیس اور سٹی وارڈنز امدادی کاموں میں شریک ہیں۔
سندھ حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو تین روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔ SBCA کے ذمہ دار افسران معطل کر دیے گئے ہیں۔
سیاسی اور سماجی ردِ عمل
صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، اور قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے سانحے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر نے موقع پر پہنچ کر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے SBCA کو کرپشن کا گڑھ قرار دیا۔
"کراچی میں 60 گز کے پلاٹس پر پانچ پانچ منزلہ عمارتیں SBCA کی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں۔”
حل کیا ہے؟
-
سخت پالیسی: خطرناک عمارتوں کی فوری مسماری اور رہائشیوں کی وقتی منتقلی کا مؤثر نظام۔
-
ڈیجیٹل مانیٹرنگ: شہر میں بننے والی تمام نئی عمارتوں کی نگرانی کے لیے Geo-tagging اور AI-based approval system۔
-
سوشل آگاہی: عوامی شعور کے لیے مہم، تاکہ رہائشی ایسی عمارتوں میں رہائش سے گریز کریں۔
-
مجرموں کو سزا: جعلسازی کرنے والے بلڈرز، اور ذمہ دار سرکاری اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی۔
