MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
بلاگ

کراچی میں عمارتیں کیوں گر رہی ہیں؟ — ناقص منصوبہ بندی، کرپشن یا بے حسی؟

Last updated: جولائی 5, 2025 4:35 صبح
Hannan Khani
Share
Rescue operation underway at a residential building that collapsed in the Baghdadi area of Lyari, Karachi, on July 4, 2025. — Geo News
SHARE

کراچی — پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں عمارتیں گرنے کے واقعات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ حالیہ واقعہ لیاری کے علاقے بغدادی میں پیش آیا، جہاں ایک پانچ منزلہ رہائشی عمارت منہدم ہو گئی، جس میں اب تک 14 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں خواتین، مرد اور ایک بچہ شامل ہے، جبکہ 30 کے قریب افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

Contents
  • حادثے کی تفصیلات
  • گزشتہ واقعات — تاریخ خود کو دہرا رہی ہے
  • خطرناک عمارتوں کی تعداد اور رہائشی شرح
  • ریسکیو آپریشن اور حکومتی ردعمل
  • سیاسی اور سماجی ردِ عمل
  • حل کیا ہے؟

حادثے کی تفصیلات

یہ عمارت 1974 میں تعمیر کی گئی تھی اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کی جانب سے اسے خطرناک قرار دیا جا چکا تھا۔ لیکن رہائشی افراد کو کئی بار نوٹس جاری ہونے کے باوجود وہ عمارت خالی نہ کر سکے۔ کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ 400 سے زائد عمارتیں شہر بھر میں خطرناک قرار دی جا چکی ہیں، مگر حکومت کی نرم پالیسی اور عوام کی عدم سنجیدگی جانیں نگل رہی ہے۔

“یہ افسوسناک واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب حکومت کوئی انتباہ دیتی ہے تو اُسے سنجیدگی سے لینا چاہیے،” میئر نے کہا۔

گزشتہ واقعات — تاریخ خود کو دہرا رہی ہے

یہ پہلا واقعہ نہیں۔

  • 2020 میں کراچی کے علاقے گولیمار میں رہائشی عمارت گرنے سے 17 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

  • 2019 میں رضویہ سوسائٹی میں چار منزلہ عمارت گرنے سے 10 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔

  • 2012 میں لیاقت آباد میں بھی چھ منزلہ عمارت گرنے سے 20 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

ہر بار تحقیقات، کمیشنز اور دعوے کیے جاتے ہیں مگر نتائج صفر۔

خطرناک عمارتوں کی تعداد اور رہائشی شرح

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق کراچی میں 578 عمارتیں ایسی ہیں جنہیں "ناقابلِ رہائش” قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر ضلع جنوبی میں واقع ہیں، جہاں لیاری، صدر، رنچھور لائن اور گارڈن جیسے گنجان آباد علاقے شامل ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں تقریباً 18 سے 22 فیصد آبادی ایسی عمارتوں میں رہائش پذیر ہے جو یا تو بغیر منظوری کے تعمیر کی گئی ہیں یا وقت گزرنے کے ساتھ خستہ حال ہو چکی ہیں۔ کچھ علاقوں میں 60-80 گز کے پلاٹس پر پانچ پانچ منزلہ عمارتیں بنا دی گئی ہیں، جو مکمل طور پر انجینئرنگ قوانین کے خلاف ہیں۔

ریسکیو آپریشن اور حکومتی ردعمل

ریسکیو ٹیمیں جدید آلات جیسے "ٹراپٹ پرسن لوکیٹر” (Heartbeat Detector) استعمال کر رہی ہیں تاکہ زندہ افراد کو تلاش کیا جا سکے۔ رات بھر جاری رہنے والے آپریشن کے لیے فلڈ لائٹس لگائی جا رہی ہیں۔ 1122، رینجرز، پولیس اور سٹی وارڈنز امدادی کاموں میں شریک ہیں۔

سندھ حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو تین روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔ SBCA کے ذمہ دار افسران معطل کر دیے گئے ہیں۔

سیاسی اور سماجی ردِ عمل

صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، اور قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے سانحے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر نے موقع پر پہنچ کر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے SBCA کو کرپشن کا گڑھ قرار دیا۔

"کراچی میں 60 گز کے پلاٹس پر پانچ پانچ منزلہ عمارتیں SBCA کی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں۔”

حل کیا ہے؟

  1. سخت پالیسی: خطرناک عمارتوں کی فوری مسماری اور رہائشیوں کی وقتی منتقلی کا مؤثر نظام۔

  2. ڈیجیٹل مانیٹرنگ: شہر میں بننے والی تمام نئی عمارتوں کی نگرانی کے لیے Geo-tagging اور AI-based approval system۔

  3. سوشل آگاہی: عوامی شعور کے لیے مہم، تاکہ رہائشی ایسی عمارتوں میں رہائش سے گریز کریں۔

  4. مجرموں کو سزا: جعلسازی کرنے والے بلڈرز، اور ذمہ دار سرکاری اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article طوفانوں کے باعث برساتی جنگلات میں درختوں کی اموات میں اضافہ، نئی تحقیق کا انکشاف
Next Article پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا تاریخی معاہدہ
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ڈاؤن سنڈروم ڈے منایا جا رہا ہے
Health
مارچ 21, 2026
خسرہ کی وبا سے 7 بچے دم توڑ گئے
Health
مارچ 21, 2026
برطانیہ: گردن توڑ بخار سے 2 طالبعلم ہلاک، متعدد وائرس میں مبتلا
Health
مارچ 21, 2026
جوان افراد میں ہارٹ اٹیک کی شرح میں اضافے کی اہم وجہ دریافت
Health
مارچ 21, 2026
ذیابیطس سے بچاؤ کے لیے کتنی نیند ضروری ہے؟
Health
مارچ 21, 2026
ملک میں ڈینگی الرٹ جاری، تکنیکی معاونت اور سخت ایس او پیز لازم
Health
مارچ 20, 2026

You Might Also Like

بلاگ

گرین، اے آر وائی یا ہم؟ اس سیزن کی ریٹنگز کی جنگ کس نے جیتی؟

By Insherah Iftikhar
بلاگ

ولادت با سعادت شہنشاہ کائنات سرور کونین سید الثقلین احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم 

By Wajeeha Batool
بلاگ

جب جھوٹ حکمران بن جائیں: غلط معلومات کے دور سے لڑنے کی جدوجہد

By Sana Mustafa
وفاقی اردو یونیورسٹی میں "احفاظ الرحمٰن ایوارڈ برائے جرأتِ اظہار و آزادی صحافت" کا انعقاد
بلاگ

وفاقی اردو یونیورسٹی میں "احفاظ الرحمٰن ایوارڈ برائے جرأتِ اظہار و آزادی صحافت” کا انعقاد

By Nisar Khan
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?