6 ستمبر، 2025
وجیہہ بتول
یہ اس وقت کی بات ہے جب عرب کا خطہ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا جہاں انسانوں میں امیر اور غریب کا امتیاز کیا جاتا تھا جہاں عورتوں پر ظلم کیا جاتا تھا جہاں بیٹیوں کو زندگی درگور کیا جاتا تھا ۔اسی دور میں حضرت عبد المطلب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو آقاۓ دو جہاں امام الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دنیا میں آنے کی خوشخبری سنائی گئی ۔
روز ولادت،
12 ربیع الاول پیر کا دن اس روز ہوائیں جھوم رہیں تھیں زمین کو خود پر رشک ہو رہا تھا اور فلق کو زمین پر ناز ہو رہا تھا کیونکہ آج اس کرہ ارض پر نبیوں کے سردار کی آمد ہوئی تھی اس روز رب کائنات نے عرب میں کوئی بیٹی دنیا میں نہیں بھیجی تھی کیونکہ اس روز رب اکبر نے اپنے محبوب ترین نبی کو دنیا میں رحمت بنا کر بھیجا تھا۔
پہلا معجزہ،
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا میں آۓ تو وہ یتیم تھے آپ کو کوئی دائی دودھ پلانے کے لیے راضی نہیں تھی اسی طرح بی بی حلیمہ سعدیہ کو کوئی دودھ پلانے کے لیے اپنا بچہ نہ دیتا تھا تبھی رب دوجہاں نے حلیمہ سعدیہ کے بھاگ جگائے کہ نبی آخر الزماں کو ان کی گود میں دے انہیں اپنے آخری نبی کی رضاعی ماں ہونے کا شرف بخشا اور اس روز سے دائی حلیمہ کے دن پھر گئے کہ گھر میں اتنا نور ہوتا کہ اگر سوئی بھی گرتی تو وہ بھی دکھائی دیتی اور تمام دائیاں حضرت بی بی حلیمہ سعدیہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی قسمت پر رشک کرتیں۔
وسیلہ
نبی آخرالزمان رب کا بھیجا ہوا وہ وسیلہ ہیں جنہوں نے انبیاء کو بھی خدا کی بارگاہ سے معافی دلوائی ہے خود دنیا کی پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام نے عرش پر لکھے سرور کونین کے نام واسطہ دے کر خدا سے معافی طلب کی اور اسی وسیلہ کے تحت آج تمام مسلمان رب العالمین سے اپنی تمام خواہشات کے پورا ہونے کی دعا کرتے ہیں۔ اور اس ولادت کے موقع پر محفل میلاد اور نیاز کا اہتمام کرتے ہیں۔ اور اپنی زندگی کو نبی علیہ السلام کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔
