پشاور — خیبر پختونخوا پولیس کے یونیفارم میں بڑی تبدیلی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت نے فورس کی ظاہری ہیئت کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اہلکاروں کی جانب سے موجودہ وردی کے معیار پر اٹھائے جانے والے تحفظات کو دور کرنے کے لیے نئے یونیفارم متعارف کرانے کی منظوری دے دی ہے۔
یہ فیصلہ برسوں سے جاری شکایات کے بعد کیا گیا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے رائج موجودہ وردی کے بارے میں اہلکاروں کی بڑی تعداد کا موقف رہا ہے کہ اس کا کپڑا نہ صرف غیر معیاری ہے بلکہ صوبے کی سخت دھوپ میں اس کا رنگ بھی جلد مدھم پڑ جاتا ہے۔
پولیس محکمہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ "ہمیں ایسی وردی درکار ہے جو فورس کی پیشہ ورانہ ساکھ کے مطابق ہو اور فیلڈ ڈیوٹی کی مشکلات کا مقابلہ کر سکے۔ یہ صرف ظاہری شکل و صورت کا معاملہ نہیں، بلکہ فرنٹ لائن پر موجود اہلکاروں کی سہولت اور افادیت کا سوال ہے۔”
نئے ڈیزائن میں ایسے کپڑے کا انتخاب کیا گیا ہے جو پشاور کے میدانی علاقوں سے لے کر شمالی اضلاع کے دشوار گزار پہاڑی سلسلوں کے موسموں کے لیے موزوں ہو۔ حکام کے مطابق وردی کا رنگ موجودہ شناخت کے مطابق ہی رہے گا، تاہم اس کی کٹائی اور تکنیکی خصوصیات میں نمایاں تبدیلی لائی گئی ہے۔
نئے یونیفارم میں بہتر جیبیں اور مضبوط سلائی شامل کی گئی ہے، جن کی مانگ خاص طور پر انسدادِ دہشت گردی اور سٹریٹ پولیسنگ میں مصروف اہلکاروں کی جانب سے کی گئی تھی۔ محکمہ پولیس کا ارادہ ہے کہ اس تبدیلی کا عمل مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا، جس کا آغاز ہائی تھریٹ یونٹس سے ہوگا۔
اس منصوبے کے لیے صوبائی بجٹ میں فنڈز مختص کر دیے گئے ہیں۔ اگرچہ لاگت کے حتمی اعداد و شمار ابھی زیرِ غور ہیں، تاہم انتظامیہ اسے پولیس کے مورال کو بلند کرنے کے لیے ایک ضروری اقدام قرار دے رہی ہے۔
یہ تبدیلی صوبے میں پولیس اصلاحات کے وسیع تر پروگرام کا حصہ ہے، جس نے ملکی سلامتی کے لیے بھاری قربانیاں دی ہیں۔ بہتر سازوسامان کی فراہمی سے حکومت فورس کی مجموعی امیج کو بہتر بنانے اور اہلکاروں کو ان کے پرخطر ماحول کے تقاضوں کے مطابق سہولیات فراہم کرنے کی خواہاں ہے۔
خریداری کے لیے ٹینڈر اگلے ماہ جاری ہونے کا امکان ہے، جس کے بعد رواں سال کے اختتام تک نئے یونیفارم اہلکاروں کو فراہم کر دیے جائیں گے۔ فورس کے نچلے درجے کے اہلکاروں کے لیے یہ تبدیلی ان کی روزمرہ کی عملی مشکلات کا دیرینہ اعتراف ہے۔
