MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
سیاست

آئی ایم ایف دباؤ کے بعد پاکستان میں درآمدی گاڑیوں کے لیے سخت قواعد کا نیا مرحلہ

Last updated: اپریل 24, 2026 3:14 شام
Abdul Saboor
Share
SHARE

اسلام آباد: پاکستان کی آٹو امپورٹ پالیسی ایک اہم موڑ پر آ پہنچی ہے۔ حکومت ایک طرف استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں پر پرانی پابندیاں بتدریج نرم کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے، تو دوسری طرف وہی حکومت ان گاڑیوں کے لیے ماحولیاتی، حفاظتی اور جانچ کے قواعد کہیں زیادہ سخت بنانے کی تیاری بھی کر رہی ہے۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ اصلاحاتی فریم ورک کے تحت پاکستان نے بعض نان ٹیرف رکاوٹیں کم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا ہے کہ گاڑیوں کی درآمد بغیر سخت معیار کے نہیں کھولی جائے گی۔

حکومتی پالیسی کا بنیادی خاکہ یہ ہے کہ کمرشل بنیاد پر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دی جائے، لیکن ابتدا میں صرف پانچ سال تک پرانی گاڑیوں کو لانے کی گنجائش ہو۔ اس کے بعد عمر کی حد میں نرمی کا راستہ رکھا گیا ہے، تاہم ماحولیاتی اور سیفٹی اسٹینڈرڈز پر مکمل عملدرآمد لازمی ہوگا۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے اسی سمت میں امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 میں ترمیم کی منظوری دی تھی، جس کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کو اصولی اجازت دی گئی۔

یہاں اصل کہانی صرف “امپورٹ کھولنے” کی نہیں، بلکہ “کن شرائط پر کھولنے” کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق حکومت نے imported vehicles کے لیے ماحول دوست اور حفاظتی شرائط سخت کرنے، معائنہ نظام بہتر بنانے اور غلط استعمال روکنے کے لیے الگ ریگولیٹری ڈھانچہ بنانے پر کام تیز کر دیا ہے۔ ایک مرحلے پر پاکستان میں گاڑیوں کے حفاظتی معیارات کی تعداد 17 سے بڑھا کر 62 کرنے کی بھی خبر سامنے آئی، جس کا مقصد یہ بتایا گیا کہ درآمدی گاڑیاں بنیادی سیفٹی، ایئربैگ، اوڈومیٹر، حادثاتی تاریخ اور دیگر تکنیکی جانچ کے تقاضوں پر پوری اتریں۔

حکومت کے لیے یہ توازن آسان نہیں۔ ایک طرف آئی ایم ایف اور معاشی اصلاحات کا دباؤ ہے، جو آٹو سیکٹر میں تحفظ پسند رکاوٹیں کم کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ عرب نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے اپنی سابقہ دستاویزات میں پاکستان کے آٹو سیکٹر کو “خاص طور پر محفوظ” قرار دیتے ہوئے مقامی پیداوار کے حق میں دی گئی ترجیحی سہولتوں اور بلند حفاظتی دیواروں پر سوال اٹھایا تھا۔ دوسری طرف مقامی اسمبلرز اور آٹو پارٹس انڈسٹری کو خدشہ ہے کہ اگر مارکیٹ بہت تیزی سے کھول دی گئی تو مقامی پیداوار، سرمایہ کاری اور روزگار متاثر ہو سکتا ہے۔

اسی لیے حکومت کا موجودہ مؤقف نسبتاً محتاط دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف صارفین کو زیادہ انتخاب دینے، قیمتوں میں ممکنہ مسابقت لانے اور مقامی مارکیٹ پر دباؤ کم کرنے کی بات ہو رہی ہے؛ دوسری طرف کمرشل درآمدات پر اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی بھی برقرار رکھی گئی ہے۔ ای سی سی کے فیصلے کے مطابق پانچ سال سے کم پرانی imported used vehicles پر 40 فیصد اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی، جسے بعد میں بتدریج کم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ یوں حکومت نے یہ اشارہ دیا کہ مارکیٹ کو اچانک مکمل طور پر آزاد نہیں کیا جائے گا۔

وزارتِ تجارت کی سطح پر بھی اس معاملے کو صرف درآمدی سہولت کے طور پر نہیں بلکہ نگرانی کے مسئلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں وفاقی وزیر جام کمال خان اور متعلقہ حکام نے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد، لوکل مینوفیکچررز کے تحفظ اور اوورسیز پاکستانیوں کے جائز مفادات کے درمیان توازن پر غور کیا۔ اسی بحث میں پری شپمنٹ اور پوسٹ شپمنٹ انسپیکشن، انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے کردار، اور امپورٹ اسکیموں کے غلط استعمال کی روک تھام جیسے نکات نمایاں رہے۔

یہ “غلط استعمال” کوئی معمولی نکتہ نہیں۔ برسوں سے پاکستان میں بیگیج، گفٹ اور ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیموں کے تحت گاڑیاں منگوائی جاتی رہی ہیں، مگر صنعت اور پالیسی ساز حلقوں میں یہ شکایت موجود رہی کہ بعض کمرشل کھلاڑی انہی رعایتی راستوں کو کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اسی لیے نئی پالیسی بحث میں صرف درآمد بڑھانے کی بات نہیں، بلکہ اس پورے نظام کو زیادہ شفاف، دستاویزی اور قابلِ نگرانی بنانے کی کوشش بھی شامل ہے۔

صارفین کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اس پالیسی میں کشش بھی ہے۔ اگر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد زیادہ منظم انداز میں کھلتی ہے تو مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر دباؤ پڑ سکتا ہے، خاص طور پر چھوٹی اور درمیانی درجے کی گاڑیوں میں۔ لیکن اس کے ساتھ خدشہ بھی جڑا ہے: اگر معیار کی جانچ کمزور ہوئی یا قوانین میں خلا رہا، تو سستی مگر ناقص، حادثہ زدہ یا تکنیکی طور پر کمزور گاڑیاں بھی مارکیٹ کا رخ کر سکتی ہیں۔ اسی خطرے نے حکومت کو “سخت قواعد” کی زبان اپنانے پر مجبور کیا ہے۔

معاشی تناظر بھی اس بحث کو اہم بناتا ہے۔ پاکستان اب بھی آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت اصلاحات کے عمل میں ہے، اور بین الاقوامی مالی معاونت کا تسلسل اکثر انہی ساختی تبدیلیوں سے جوڑا جاتا ہے۔ دسمبر 2025 میں آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے مزید فنڈنگ کی منظوری دیتے ہوئے وسیع تر معاشی استحکام اور اصلاحات کی پیش رفت کا حوالہ دیا تھا۔ اس پس منظر میں گاڑیوں کی درآمد کا معاملہ محض آٹو سیکٹر کی پالیسی نہیں، بلکہ تجارت، محصولات، صنعتی تحفظ اور بین الاقوامی مالیاتی شرائط کے سنگم پر کھڑا ایک حساس معاملہ بن چکا ہے۔

خلاصہ یہی ہے: پاکستان استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں کے لیے دروازہ کھول رہا ہے، مگر پورا نہیں۔ آئی ایم ایف کے دباؤ نے پرانی رکاوٹیں نرم کرنے کی رفتار تیز کی ہے، لیکن حکومت اس عمل کو سخت حفاظتی، ماحولیاتی اور انسپیکشن شرائط کے ساتھ باندھنا چاہتی ہے۔ یعنی اب بحث صرف یہ نہیں رہی کہ imported vehicles آئیں گی یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کون سی گاڑیاں آئیں گی، کس معیار پر آئیں گی، اور کس نگرانی کے تحت پاکستانی سڑکوں تک پہنچیں گی۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article خیبر پختونخوا پولیس کے لیے نئے یونیفارم کی منظوری
Next Article علاقائی کشیدگی: اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ کا ٹیلی فونک رابطہ
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
صومالیہ میں قزاقوں کی فائرنگ سے جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں وطن لانے میں مشکلات
صومالیہ میں قزاقوں کی فائرنگ سے جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں وطن لانے میں مشکلات
Maritime تازہ ترین
اکتوبر 1, 2026
امریکی قونصل جنرل کا کراچی پورٹ کا دورہ، جدیدکاری اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو
امریکی قونصل جنرل کا کراچی پورٹ کا دورہ، جدیدکاری اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو
تازہ ترین کاروبار اور تجارت
اکتوبر 1, 2026
گورنر سندھ سے آسٹریا کے اعزازی قونصل جنرل کی ملاقات، تجارتی و اقتصادی تعاون پر گفتگو
گورنر سندھ سے آسٹریا کے اعزازی قونصل جنرل کی ملاقات، تجارتی و اقتصادی تعاون پر گفتگو
تازہ ترین کاروبار اور تجارت
اکتوبر 1, 2026
صومالیہ میں قید پاکستانیوں کا معاملہ، گورنر سندھ نہال ہاشمی کا اہم بیان
صومالیہ میں قید پاکستانیوں کا معاملہ، گورنر سندھ نہال ہاشمی کا اہم بیان
تازہ ترین سیاست
اکتوبر 1, 2026
پنجاب حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کامیاب، 15 اکتوبر تک مہلت
پنجاب حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کامیاب، 15 اکتوبر تک مہلت
تازہ ترین کاروبار اور تجارت
اکتوبر 1, 2026
پی ایم اے کا ملک بھر کے نجی میڈیکل سینٹرز میں ہڑتال کا اعلان، حکومت کو 11 اکتوبر کی ڈیڈ لائن
پی ایم اے کا ملک بھر کے نجی میڈیکل سینٹرز میں ہڑتال کا اعلان، حکومت کو 11 اکتوبر کی ڈیڈ لائن
Health تازہ ترین
اکتوبر 1, 2026

You Might Also Like

سیاست

عید کے دوران غزہ پر حملے، 100 سے زائد فلسطینی شہید، غذائی و طبی بحران شدید

By Hannan Khani
سیاست

ٹرمپ: پوتن یوکرین میں امن کے لیے تیار — الاسکا اجلاس سے قبل مثبت اشارے

By Hannan Khani
سیاست

سمندری راستے سے جعلی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے بھارت، ڈی جی آئی ایس پی آر کی وارننگ

By Sana Mustafa
بریکنگ نیوزسیاست

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کا امریکہ کو ایران کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے سے مبینہ انکار

By Shabih Abbas
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?