موجودہ دور میں فالج اور دل کا دورہ (ہارٹ اٹیک) کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے جسے نظر انداز کرنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بیماریاں اب صرف بزرگوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ نوجوان اور درمیانی عمر کے افراد بھی تیزی سے ان کا شکار ہو رہے ہیں، ان کی سب سے بڑی وجہ ہمارا بدلتا ہوا طرزِ زندگی ہے جو جسمانی اور ذہنی صحت دونوں پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔
جدید زندگی کی تیز رفتاری نے انسان کو مستقل دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے، نیند کی کمی، وقت پر کھانا نہ کھانا، مسلسل اسکرین دیکھنا اور جسمانی سرگرمی کا فقدان۔
یہ سب عوامل مل کر صحت کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ پہلے فالج کو بڑھاپے کی بیماری سمجھا جاتا تھا، مگر اب بڑھتے ہوئے تناؤ اور غیر متوازن روٹین کی وجہ سے یہ ہر عمر کے لوگوں میں دیکھا جا رہا ہے۔
فالج کیا ہے اور یہ کیسے ہوتا ہے؟
فالج اس وقت ہوتا ہے جب دماغ تک خون کی فراہمی متاثر ہو جائے یا دماغ کی کوئی رگ پھٹ جائے۔ اس کے نتیجے میں دماغ کے خلیات کو آکسیجن نہیں مل پاتی، جو مستقل معذوری یا حتیٰ کہ موت کا سبب بن سکتی ہے۔ ہماری روزمرہ زندگی کی بعض غلط عادات اس خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتی ہیں۔
1: ہائی بلڈ پریشر: فالج کی سب سے بڑی وجہ:
ماہرینِ صحت اور NHS.UK کے مطابق ہائی بلڈ پریشر متعدد سنگین بیماریوں کی جڑ ہے۔ بلند فشارِ خون شریانوں کو نقصان پہنچاتا ہے، انہیں تنگ اور کمزور بنا دیتا ہے، جس سے اسکیمک یا ہیمرجک اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ چونکہ ہائی بلڈ پریشر اکثر بغیر علامات کے ہوتا ہے، اس لیے اس کی باقاعدہ جانچ نہایت ضروری ہے۔
2: غیر صحت مند خوراک اور خراب طرزِ زندگی:
مصروف معمولات کے باعث لوگ گھر کا پکا ہوا کھانا چھوڑ کر فاسٹ فوڈ پر انحصار کرنے لگے ہیں۔ تیل، نمک اور مصالحوں سے بھرپور یہ غذائیں ٹرانس فیٹس اور کولیسٹرول میں زیادہ ہوتی ہیں، جو شریانوں میں رکاوٹ پیدا کر کے خون کے بہاؤ کو کم کر دیتی ہیں۔ اس کے ساتھ نیند کی کمی اور ورزش نہ کرنا فالج کے خطرے کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
3: تمباکو نوشی اور شراب نوشی:
کم عمری میں سگریٹ اور شراب نوشی کی عادت صحت کے لیے نہایت نقصان دہ ہے۔ سگریٹ کا دھواں خون کی نالیوں کو کمزور کرتا ہے اور خون کو گاڑھا بنا دیتا ہے، جس سے رکاوٹ کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ شراب نوشی بلڈ پریشر میں اضافہ کرتی ہے۔ یہ دونوں عادتیں مل کر کم عمر افراد میں بھی فالج جیسے جان لیوا مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔
4: ذہنی تناؤ: نظر نہ آنے والا دشمن:
مسلسل ذہنی دباؤ جسم میں کورٹیسول ہارمون کی سطح بڑھا دیتا ہے، جو بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر کو متاثر کرتا ہے۔ جو افراد طویل عرصے تک تناؤ میں رہتے ہیں، ان میں فالج کا خطرہ نسبتاً زیادہ پایا جاتا ہے۔ ذہنی سکون اور آرام نہ صرف دماغ بلکہ دل اور خون کی نالیوں کے لیے بھی بے حد ضروری ہے۔
دیگر عوامل جو فالج کے خطرے کو بڑھاتے ہیں:
ان بنیادی وجوہات کے علاوہ بڑھتی عمر، خاندانی طبی تاریخ، آلودہ ماحول میں زیادہ وقت گزارنا اور بعض وائرل انفیکشنز بھی فالج کے امکانات میں اضافہ کر سکتے ہیں، ان عوامل پر قابو پانا اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا صحت مند زندگی کے لیے ناگزیر ہے۔
فالج ایک نہایت سنگین طبی مسئلہ ہے، مگر درست معلومات، بروقت احتیاط اور صحت مند طرزِ زندگی اپنا کر اس سے کافی حد تک بچا جا سکتا ہے۔
باقاعدہ چیک اپ، متوازن غذا، جسمانی سرگرمی، تمباکو اور شراب سے پرہیز اور ذہنی سکون، یہ سب مل کر آپ کو ایک محفوظ اور صحت مند زندگی کی طرف لے جاسکتے ہیں۔
