اسلام آباد / بیجنگ — صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ خطے کے ممالک کو جنگوں سے نکل کر معاشی ترقی پر توجہ دینی چاہیے، جبکہ پاکستان اور چین کا تعاون اب خلا تک جا پہنچا ہے۔
چائنا گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک (سی جی ٹی این) کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ چین کی مضبوط معیشت نے عوام کو خوشحال اور پُراعتماد بنایا ہے، اور پورا مشرق چین کے ساتھ مل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ انہوں نے کہا: “ہم پُرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتے ہیں، سب کو ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کرنا ہوگا، اور پاکستان ہر حال میں چین کے ساتھ کھڑا ہے۔”
صدر مملکت نے بتایا کہ وہ 16 سے 17 مرتبہ چین کا دورہ کرچکے ہیں اور ہر بار وہاں نمایاں تبدیلی اور اپنائیت کا تجربہ کیا ہے۔ “14 سال پہلے کا چین اور آج کا چین بالکل مختلف ہے،” انہوں نے کہا۔
زرعی شعبے کے حوالے سے صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان کو خود کفالت حاصل کرنے کے لیے جدید آب پاشی، پانی کے مؤثر استعمال، آفات سے بچاؤ اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کی طرف بڑھنا ہوگا۔ “پاکستان اور چین کے درمیان زرعی اور آبی شعبے سمیت سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔”
صدر نے پاکستان اور چین کو “آہنی بھائی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے ٹیکنالوجی اور محنت کی بنیاد پر دنیا میں مقام بنایا ہے، اور پاکستان بھی توانائی کے قابلِ تجدید منصوبوں، ریلویز اور دیگر شعبوں میں چین کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہتا ہے۔
سی پیک کے حوالے سے صدر نے کہا کہ یہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا فلیگ شپ منصوبہ ہے۔ “پاکستان کی بندرگاہیں چین کے قریب ترین ہیں، سی پیک کی کامیابی سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورا خطہ ترقی کرے گا اور روابط مضبوط ہوں گے۔”
