اسلام آباد: نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے جمعہ کی شام اسلام آباد کے میڈیا ٹاؤن میں صحافی خالد جمیل کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا۔ ایجنسی نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد کی گئی، تاہم مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
ذرائع کے مطابق جمیل کے خلاف رواں سال کے آغاز میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، لیکن اس کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ گرفتاری کی خبر سب سے پہلے سوشل میڈیا پر پھیلی جب صحافی اسد علی طور نے ایکس پر دعویٰ کیا کہ ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے کے اہلکاروں نے جمیل کو حراست میں لیا۔ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کے وکیل خالد یوسف چوہدری نے بھی ایک ویڈیو جاری کی، جس میں انہوں نے کہا کہ جمیل کو شام 6 بج کر 36 منٹ پر بغیر کسی وارنٹ کے گرفتار کیا گیا اور نہ ایف آئی آر دکھائی گئی اور نہ ہی وارنٹ۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ جمیل کو حکام کی کارروائی کا سامنا ہے۔ ستمبر 2023 میں ایف آئی اے نے انہیں سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر ریاست مخالف بیانیہ پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ ان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 505 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم وہ ایک ہفتے بعد ضمانت پر رہا ہو گئے تھے۔
اس وقت وہ کسی نیوز ادارے سے وابستہ نہیں ہیں لیکن اپنا یوٹیوب چینل چلاتے ہیں اور بطور سیاسی تجزیہ کار ٹی وی پروگراموں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے ہیں، جہاں وہ انسانی حقوق اور سیاسی دباؤ جیسے موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہیں۔
