لاہور: لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے ہفتے کے روز سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے بھتیجے شیر شاہ کو جناح ہاؤس حملہ کیس میں پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج مظہر علی گل نے کیس کی سماعت کی۔ پولیس نے ملزم کے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ شیر شاہ 9 مئی کو جناح ہاؤس میں حسن نیازی کے ساتھ موجود تھا اور ویڈیو فوٹیج میں ہجوم کے درمیان نظر آ رہا ہے جو توڑ پھوڑ اور آگ زنی میں ملوث تھا۔
ڈی ایس پی جاوید آصف نے عدالت میں ایک ویڈیو چلائی جس میں مبینہ طور پر شیر شاہ کو پی ٹی آئی کارکنوں اور حامیوں کو جناح ہاؤس کو نقصان پہنچانے اور آگ لگانے پر اکساتے دیکھا جا سکتا ہے۔ تفتیشی افسر نے مزید بتایا کہ ملزم کا فوٹوگرام میٹرک ٹیسٹ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ ابھی باقی ہے۔
ملزم کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پولیس عمران خان کے خاندان کو ہراساں کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شیر شاہ کو جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے اور انہیں 27 ماہ بعد گرفتار کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ’’صرف ایک دن پہلے تک شیر کسی کیس میں مطلوب نہیں تھا۔ وہ اپنے بھائی سے اظہار یکجہتی کے لیے عدالت آیا اور واپسی پر گرفتار کر لیا گیا۔‘‘ راجہ نے عدالت سے مقدمہ خارج کرنے اور اپنے مؤکل کو بری کرنے کی استدعا کی۔
