الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریکِ انصاف کے اندرونی انتخابی عمل میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان کو چیئرمین تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ پارٹی کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویزات مکمل نہیں تھیں اور انتخابی طریقہ کار میں متعدد تضادات سامنے آئے۔
اس فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کے پاس باضابطہ طور پر تسلیم شدہ چیئرمین موجود نہیں رہے گا، اور پارٹی کو نئے اندرونی انتخابات کرانے ہوں گے جو قواعد و ضوابط کے مطابق ہوں۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے فیصلے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہا ہے، جبکہ کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے سیاسی صورتحال میں مزید بے یقینی پیدا ہو گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت پارٹی کی آئندہ حکمتِ عملی اور تنظیمی ڈھانچے پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔
