مئی کی جھڑپ کے بعد پہلا بڑا رابطہ، بھارت نے اپریل میں معاہدے کی معطلی کا اعلان کیا تھا
اسلام آباد — مئی کی جنگی کشیدگی کے بعد بھارت نے پہلی مرتبہ پاکستان کو باضابطہ طور پر ممکنہ سیلاب کے خدشے سے آگاہ کیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن نے 24 اگست کی صبح پاکستان کو پیغام دیا کہ جموں کے تاوی دریا میں بڑا سیلاب آ سکتا ہے۔
پاکستانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ بھارت کی اطلاع موصول ہونے کے بعد متعلقہ اداروں نے انتباہی وارننگز جاری کر دی ہیں۔
خاموشی کے بعد پہلا رابطہ
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب بھارت نے اپریل میں پاہلگام حملے کے بعد انڈس واٹر ٹریٹی (IWT) میں اپنی شرکت معطل کر دی تھی۔ حملے میں 26 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ نئی دہلی نے اس کا الزام اسلام آباد پر عائد کیا، تاہم پاکستان نے اس کی سختی سے تردید کی۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جو مئی میں امریکی ثالثی سے طے پانے والے سیزفائر پر ختم ہوئیں۔
انڈس واٹر ٹریٹی کیا ہے؟
انڈس واٹر ٹریٹی ستمبر 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پائی تھی۔ اس معاہدے کے تحت مشرقی دریا — ستلج، بیاس اور راوی — بھارت کو دیے گئے جبکہ مغربی دریا — سندھ، جہلم اور چناب — پاکستان کے حصے میں آئے۔
یہ معاہدہ تین جنگوں اور کئی تنازعات کے باوجود قائم رہا ہے۔ اس میں کسی فریق کو یکطرفہ طور پر معاہدہ معطل یا ختم کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ تاہم بھارت نے اپریل میں اعلان کیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے "سرحد پار دہشت گردی ختم کرنے” تک وہ معاہدے کو معطل رکھے گا۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ معاہدہ ایک عالمی معاہدہ ہے جسے کوئی فریق یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔ اسلام آباد نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت نے پاکستان کے حصے کا پانی روکنے یا موڑنے کی کوشش کی تو اسے "جنگی اقدام” تصور کیا جائے گا۔
زرعی شعبے پر اثرات
پاکستان اپنی آبادی، زرعی زمین اور بجلی پیداوار کے لیے اسی دریا کے پانی پر انحصار کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر پانی کی ترسیل غیر یقینی ہو جائے تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے۔
"یہ معاہدہ ہماری زراعت کی ریڑھ کی ہڈی ہے،” پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کے رہنما غشارب شوکت نے کہا۔ "اگر پانی کی روانی متاثر ہوئی تو چھوٹے کسان سب سے زیادہ نقصان اٹھائیں گے۔”
قومی کسان یونین کے چیئرمین خالد حسین بٹھ نے بھارتی اقدام کو "جارحیت” قرار دیا۔ ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث بارش اور برفباری میں کمی پہلے ہی پاکستان کو 20 سے 25 فیصد پانی کی کمی سے دوچار کر چکی ہے۔
ہیگ کی عدالت میں کامیابی
جون میں پاکستان نے ہیگ کی مستقل ثالثی عدالت میں ایک بڑی کامیابی حاصل کی، جس نے بھارت کے کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو پاور منصوبوں سے متعلق تنازع پر اپنی دائرہ کار کی توثیق کی۔ عدالت نے کہا کہ بھارت کا یکطرفہ طور پر معاہدہ معطل کرنا اس کی قانونی حیثیت ختم نہیں کرتا۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے اس فیصلے کو "اہم کامیابی” قرار دیتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر معاہدے کے معمول کے عمل کو بحال کرے۔
آگے کیا ہوگا؟
بھارت کی حالیہ سیلاب وارننگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عملی طور پر دونوں ممالک اس معاہدے کے پابند ہیں۔ تاہم، پانی کے مستقبل پر دونوں کا مؤقف مختلف ہے۔ نئی دہلی پانی کے منصوبوں پر زور دے رہا ہے جبکہ اسلام آباد کسی بھی رکاوٹ کو اپنی بقا کے خلاف خطرہ سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انڈس بیسن دونوں ممالک کے لیے زندگی کا ذریعہ بھی ہے اور تصادم کا امکان بھی۔
