ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کی صبح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُس دعوے کو مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہو چکا ہے۔ عراقچی نے واضح کیا کہ تاحال ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” (X) پر صبح 4:16 بجے (تہران وقت) لکھا:
"ابھی تک اسرائیل اور ایران کے درمیان کسی قسم کی جنگ بندی یا فوجی کارروائیوں کے خاتمے پر کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔”
البتہ عراقچی نے یہ بھی کہا کہ اگر اسرائیل منگل کی صبح 4 بجے (0000 GMT) سے پہلے ایرانی عوام پر اپنی "غیر قانونی جارحیت” بند کر دیتا ہے، تو ایران کی جانب سے مزید جوابی کارروائیاں نہیں کی جائیں گی۔
انہوں نے مزید کہا:
"ہماری فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔”
عراقچی کے مطابق:
"ہماری طاقتور مسلح افواج نے اسرائیل کی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے صبح 4 بجے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔”
ٹرمپ کا دعویٰ: مکمل جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند گھنٹے قبل اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر اعلان کیا تھا کہ ایران اور اسرائیل مکمل جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔
"ایران اور اسرائیل کے درمیان مکمل اور جامع جنگ بندی کا مکمل اتفاق ہو چکا ہے،” ٹرمپ نے کہا۔
ٹرمپ کے مطابق یہ جنگ بندی 24 گھنٹے کے مرحلہ وار عمل کے تحت ہوگی، جس کا آغاز منگل کی صبح 0400 GMT پر ہوگا۔ اس کے تحت ایران اپنی کارروائیاں فوری طور پر روک دے گا، جب کہ اسرائیل 12 گھنٹے بعد جواباً جنگ بند کرے گا۔
"24ویں گھنٹے پر اس 12 روزہ جنگ کا ‘سرکاری خاتمہ’ دنیا بھر میں خوشی سے سراہا جائے گا،” ٹرمپ نے لکھا، اور کہا کہ دونوں ممالک کو اس دوران "پرامن اور باوقار” رویہ اختیار کرنا ہوگا۔
ٹرمپ کے دعوے کے باوجود تہران میں شدید بمباری
ٹرمپ کے اعلان کے باوجود تہران میں منگل کی رات شدید دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ اے ایف پی (AFP) کے صحافیوں کے مطابق تہران کے شمالی اور وسطی علاقوں میں ہونے والے دھماکے جنگ کے آغاز کے بعد سے سب سے شدید تھے۔
اسرائیل نے تاحال ٹرمپ کے جنگ بندی کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جبکہ ایران بھی ابھی صرف مشروط نرمی کی بات کر رہا ہے — اور یہ نرمی اسرائیل کی جانب سے حملے روکنے سے مشروط ہے۔
