بھارت میں ایک نیا سیاسی تنازع اُس وقت کھڑا ہو گیا جب بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک متنازع رہنما نے بالی ووڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان کو نشانے پر لے لیا۔
یہ ردِعمل اس وقت سامنے آیا جب شاہ رخ خان کی ملکیت آئی پی ایل ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے بنگلادیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمٰن کو ٹیم کا حصہ بنایا۔ بی جے پی رہنما سنگیت سوم نے اس فیصلے کو قومی جذبات کے منافی قرار دیتے ہوئے سخت زبان استعمال کی۔
میرٹھ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سابق رکن اسمبلی نے دعویٰ کیا کہ ایسے حالات میں بنگلادیشی کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کرنا عوامی احساسات کو مجروح کرتا ہے۔ انہوں نے اس معاملے کو علاقائی صورتحال سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ایسے فیصلوں پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
سنگیت سوم نے مزید کہا کہ آئی پی ایل نیلامی میں اس کھلاڑی پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے، جو ان کے نزدیک ناقابل قبول ہے۔ ان کے بیان میں کھیل کے میدان کو سیاست سے جوڑنے کی کوشش واضح نظر آئی۔
یہ بیان سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی، جہاں کئی حلقوں نے اس رویے کو انتہا پسندی قرار دیا، جبکہ کچھ افراد نے اس کی حمایت بھی کی۔ تاحال شاہ رخ خان یا ان کی ٹیم کی جانب سے اس معاملے پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا.
