راولپنڈی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی نے ضلع بھر کے تمام نجی تعلیمی اداروں کے لیے 14 نکاتی جامع سکیورٹی فریم ورک فوری طور پر نافذ کر دیا ہے، جبکہ ہدایات پر عمل نہ کرنے والے اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی وارننگ دی گئی ہے۔
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد طارق نے نجی اسکولوں کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ دو دن کے اندر تمام سکیورٹی انتظامات مکمل کریں اور مقررہ مدت کے اندر تعمیلی رپورٹس جمع کرائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کی سلامتی میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
نظرثانی شدہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز کے تحت اسکولوں کو کم از کم آٹھ فٹ اونچی چاردیواری تعمیر کرنے اور اس کے اوپر دو فٹ خار دار تار لگانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اداروں میں اندرونی اور بیرونی حصوں کی مکمل نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنا لازم قرار دیا گیا ہے، جن کے لیے یو پی ایس سمیت بلا تعطل بجلی کی سہولت فراہم کرنا ہوگی۔
نئے قوانین کے مطابق فعال کنٹرول روم کا قیام، مؤثر میٹل ڈیٹیکٹرز کی تنصیب اور تصدیق شدہ سکیورٹی گارڈز کی تعیناتی بھی لازمی قرار دی گئی ہے، جو باقاعدہ وردی میں ہوں اور مجاز اسلحہ رکھتے ہوں۔
مزید برآں، اسکولوں کو داخلی راستوں پر وزیٹرز رجسٹر رکھنا، نمایاں مقامات پر ہنگامی رابطہ نمبرز آویزاں کرنا اور سکیورٹی سے متعلق ہدایات پر مشتمل پوسٹرز لگانا ہوں گے۔ ہنگامی اخراج کے راستوں کی واضح نشاندہی اور باقاعدگی سے حفاظتی فرضی مشقوں (موک ڈرلز) کا انعقاد بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔
سی ای او محمد طارق نے دوبارہ خبردار کیا کہ سکیورٹی ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، اور اسکول مالکان و پرنسپلز پر زور دیا کہ وہ طلبہ کے محفوظ تعلیمی ماحول کو یقینی بنانے کے لیے ان اقدامات پر فوری عمل درآمد کریں۔
