اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عثمان، جو چند روز قبل لاپتہ ہوئے تھے، معروف یوٹیوبر سعد الرحمان المعروف ڈکی بھائی کے خلاف اہم کیس کی تفتیش کر رہے تھے۔
ڈی ایس پی لیگل ساجد چیمہ نے عدالت کو بتایا کہ محمد عثمان کی بازیابی کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ “گمشدہ افسر ڈکی بھائی کیس کی تفتیش کر رہے تھے” اور حیران کن طور پر “اس کیس پر کام کرنے والے دیگر افسران بھی لاپتہ ہیں۔”
یہ کیس اس ایف آئی آر سے شروع ہوا جو شمس کالونی تھانے میں عثمان کی اہلیہ روزینہ عثمان کی جانب سے درج کروائی گئی۔ ایف آئی آر کے مطابق 14 اکتوبر کی شام تقریباً ساڑھے سات بجے چار مسلح افراد سفید گاڑی میں آئے اور محمد عثمان کو اسلحے کے زور پر اغوا کر کے لے گئے۔
مگر معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب روزینہ عثمان کی وکیل، ایڈووکیٹ راجہ رضوان عباسی نے عدالت کو بتایا کہ روزینہ خود بھی درخواست جمع کروانے کے بعد لاپتہ ہو گئی ہیں۔ ڈی ایس پی چیمہ کے مطابق روزینہ کی آخری لوکیشن لاہور کی ایمپریس روڈ پر ٹریس ہوئی تھی، جس کے بعد ان کا فون بند ہو گیا۔
جسٹس محمد اعظم خان نے کیس کی سماعت کے دوران اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا کہ “عدالت کا مقصد صرف تاریخیں دینا نہیں بلکہ مسئلے کو حل کرنا ہے۔” انہوں نے اسلام آباد پولیس کو تین دن کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ محمد عثمان کی بازیابی ہر صورت ممکن بنائی جائے۔
20 اکتوبر کو ہونے والی ابتدائی سماعت میں جسٹس خان نے خبردار کیا تھا کہ اگر عثمان بازیاب نہ ہوئے تو اسلام آباد کے آئی جی اور NCCIA کے اعلیٰ افسران کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونا ہوگا۔
عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 31 اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے، تاکہ حکام کو لاپتہ افسر کی تلاش کے لیے مزید ایک ہفتہ دیا جا سکے۔
