ملپ زویری کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’’ایک دیوانے کی دیوانیت‘‘ جس میں ہارشوردھن رانے اور سونم باجوا مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، دیوالی کے موقع پر ریلیز ہوتے ہی باکس آفس پر اچھا بزنس کر رہی ہے۔ فلم نے صرف تین دنوں میں 26.08 کروڑ روپے کا بزنس کیا ہے۔ تاہم، شائقین کی بڑی تعداد اس فلم کو ’’زہریلی محبت‘‘ دکھانے پر سخت تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر ناظرین کا کہنا ہے کہ فلم میں عورت کی رضامندی کو نظرانداز کیا گیا ہے اور زبردستی، ذہنی اذیت اور جنون کو ’’محبت‘‘ کے نام پر پیش کیا گیا ہے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’کسی عورت کی رضامندی کا احترام نہ کرنا اور ذہنی اذیت کو دیوانیت کہنا قابلِ افسوس ہے۔ فلم کا انجام چاہے معافی پر ختم ہوتا ہو، لیکن اس نے ایک پوری نسل کو غلط پیغام دیا ہے۔‘‘
ایک اور صارف نے طنز کرتے ہوئے کہا، ’’فلم کم اور سیریل زیادہ لگتی ہے، دو گھنٹے میں ایک ہزار اقساط کا مواد ٹھونس دیا گیا ہے۔‘‘ کسی نے لکھا، ’’اس فلم میں صرف ایک اچھی چیز ہے — اس کا اختتام، کیونکہ اس کے بعد آپ کو سکون ملتا ہے۔‘‘
کئی صارفین نے فلم کے مکالموں اور منطق پر سوال اٹھائے، جبکہ کچھ نے صرف موسیقی کو پسند کیا۔ ایک تبصرہ سوشل میڈیا پر خاصا وائرل ہوا، ’’لڑکی بار بار منع کر رہی ہے مگر ہیرو زبردستی کر رہا ہے، اسٹاکر بن کر اس کی زندگی برباد کر رہا ہے۔ 2025 میں بھی ایسی فلمیں؟ آخر کب ہم بہتر مواد بنائیں گے؟‘‘
فلم میں ہارشوردھن رانے اور سونم باجوا کے ساتھ ساتھ شاد رندھاوا، سچن کھیڈکر اور اننت نارائن مہادیون بھی اہم کرداروں میں شامل ہیں۔
اگرچہ ’’ایک دیوانے کی دیوانیت‘‘ باکس آفس پر کامیابی حاصل کر رہی ہے، مگر یہ فلم ایک بار پھر اس بحث کو تازہ کر گئی ہے کہ بھارتی سنیما میں عورت کی نمائندگی اور رشتوں کی تصویر کشی کو کس طرح بہتر کیا جا سکتا ہے۔
