کراچی، 9 اگست: سندھ ہائی کورٹ نے سرجانی ٹاؤن میں ایک نجی پراپرٹی کی چار دیواری گرانے کے معاملے پر توہینِ عدالت کی درخواست میں کے ڈی اے اور ایس بی سی اے کے افسران کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔
سماعت کے دوران جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے افسران کے اقدام پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کسی خلاف ورزی کے بغیر کسی کی دیوار کس قانون کے تحت گرائی جا سکتی ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ متاثرہ شہری کو نقصان کا ازالہ کیا جائے اور گرائی گئی دیوار دوبارہ تعمیر کی جائے۔
جج نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ سماعت تک نقصان پورا نہ کیا گیا تو توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کر کے افسران کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جائے گا۔ عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ جبکہ شہر بھر میں غیر قانونی تعمیرات جاری ہیں اور ایس بی سی اے خاموش ہے، پھر نجی پراپرٹی کو کیوں نشانہ بنایا گیا۔
عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت دی کہ درخواست میں ذمہ دار افسران کے نام شامل کیے جائیں اور سماعت 27 اگست تک ملتوی کر دی۔ یہ درخواست شہری نذیر موسیٰ نے کے ڈی اے، ایس بی سی اے اور پولیس افسران کے خلاف دائر کی تھی۔
