ریاض – 13 اگست 2025:
سعودی عرب نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے حالیہ بیان کی شدید مذمت کی ہے، جس میں انہوں نے نام نہاد "گریٹر اسرائیل” کے منصوبے کی حمایت کا اظہار کیا۔
منگل کو اسرائیلی چینل i24 نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ وہ گریٹر اسرائیل کے تصور سے "بہت وابستہ” ہیں۔ اس اصطلاح سے مراد ایک توسیع پسندانہ منصوبہ ہے جس میں مشرقی یروشلم، مغربی کنارے، غزہ، جزیرہ نما سینا، گولان کی پہاڑیاں اور بعض دیگر عرب ممالک کے حصے شامل ہیں۔
سعودی عرب کا ردعمل
سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں اسرائیلی حکام کی جانب سے اپنائے گئے "آبادی کاری اور توسیع پسند منصوبوں” کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی عوام کو اپنے تاریخی اور قانونی حق کے تحت آزاد اور خودمختار ریاست قائم کرنے کا مکمل حق حاصل ہے، جو بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہونا چاہیے۔
وزارتِ خارجہ نے خبردار کیا کہ اسرائیلی قبضے کی جانب سے جاری "کھلی خلاف ورزیاں” بین الاقوامی قانونی بنیادوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں، ریاستوں کی خودمختاری کی کھلی پامالی ہیں اور خطے کے ساتھ ساتھ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔
جی سی سی اور عرب لیگ کا مؤقف
خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے بھی نیتن یاہو کے بیان کی شدید مذمت کی، اسے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور عرب ممالک کی وحدت و خودمختاری پر واضح حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات خطے اور دنیا کے امن و استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں، اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس قسم کے اشتعال انگیز بیانات کے خلاف مضبوط موقف اپنائے۔
عرب لیگ نے بھی نیتن یاہو کے بیان کو "انتہائی خطرناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عرب ممالک کی خودمختاری کے لیے کھلا چیلنج اور عرب اجتماعی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ سوچ "توسیع پسندانہ اور جارحانہ عزائم” کی عکاسی کرتی ہے جو "نوآبادیاتی بھرم” پر مبنی ہیں۔ عرب لیگ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے انتہا پسندانہ بیانات کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
غزہ میں فوجی کارروائی کی تیاری
دوسری جانب، اسرائیلی فوج نے بدھ کو اعلان کیا کہ اس نے غزہ پٹی میں ایک نئی فوجی کارروائی کے فریم ورک کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب چند روز قبل اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے غزہ کے سب سے بڑے شہر پر قبضے کی ہدایت دی تھی۔ اسرائیل کی جانب سے جاری 22 ماہ کی جنگ میں اب تک 61 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں اور خطے میں سنگین انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے۔
