سعودی عرب نے اس سال کی 98ویں اکیڈمی ایوارڈز میں بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کے زمرے میں اپنی نمائندگی کے لیے فلم ہجرت (Hijra) کو باضابطہ طور پر منتخب کر لیا ہے۔
یہ فلم معروف سعودی فلم ساز شہاد امین کی تخلیق ہے، جن کی ہدایتکاری میں بننے والی یہ فلم سعودی سینما کے لیے ایک اور اہم سنگِ میل ثابت ہو رہی ہے۔ فلم کمیشن کی جانب سے اس اعلان کے بعد سوشل میڈیا اور فلمی حلقوں میں خوشی اور فخر کی لہر دوڑ گئی ہے۔
کہانی جو سفر سے زیادہ احساسات پر مبنی ہے
ہجرت، جس کا مطلب ہے “ہجرت” یا “منتقلی”، دو نسلوں کی کہانی بیان کرتی ہے — ایک دادی اور اس کی نواسی کی — جو سعودی عرب کے مختلف شہروں کا سفر کرتی ہیں ایک لاپتہ نوعمر لڑکی کو تلاش کرنے کے لیے۔ یہ سفر صرف فاصلے طے کرنے کا نہیں، بلکہ احساسات، رشتوں اور عورت کی خودی کی تلاش کا سفر بن جاتا ہے۔
فلم کی شوٹنگ 55 دن تک جاری رہی اور یہ طائف، جدہ، مدینہ، العُلا، تبوک، نیوم اور ضبا سمیت آٹھ شہروں میں فلمائی گئی۔
یہ فلم پہلی بار وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں نمائش کے لیے پیش کی گئی جہاں اسے NETPAC ایوارڈ برائے بہترین ایشیائی فلم سے نوازا گیا — جو اس کی بین الاقوامی پذیرائی کا بڑا ثبوت ہے۔
ہدایتکارہ شہاد امین — جنہوں نے پہلے Scales (سیدۃ البحر) سے عالمی شناخت حاصل کی — کا کہنا ہے کہ ہجرت “عورت کی شناخت، نسل در نسل تعلقات اور آزادی کی جستجو” پر مبنی کہانی ہے۔ ان کے مطابق:
“یہ فلم اُن خواتین کے لیے ہے جو خاموش رہ کر بھی دنیا کو بدلنے کی طاقت رکھتی ہیں۔”
سعودی سینما کے لیے ایک نیا باب
اگرچہ سعودی عرب اس سے قبل بھی آسکر کے لیے کئی فلمیں بھیج چکا ہے، مگر ابھی تک کوئی فلم فائنل نامزدگی تک نہیں پہنچی۔ تاہم ہجرت کو فلمی نقاد ایک نئے اعتماد اور مضبوط کہانی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
یہ قدم مملکت کے وژن 2030 کے تحت فلمی صنعت میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کا بھی عکاس ہے۔ نیوم اور العُلا جیسے مقامات پر فلم سازی کے مراکز اور عالمی فلم میلوں میں سعودی موجودگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ مملکت کہانیوں کے ذریعے اپنی ثقافت کو دنیا تک پہنچانے کے لیے سنجیدہ ہے۔
بین الاقوامی ناقدین نے ہجرت کی تصویری خوبصورتی اور جذباتی گہرائی کی تعریف کی ہے۔ امریکی جریدے وَرائٹی نے اسے “خوبصورت مگر خاموش فلم — جو نقصان اور صبر کی کہانی عورتوں کی آنکھوں سے بیان کرتی ہے” قرار دیا۔
آگے کا سفر
اب ہجرت آسکر کی دوڑ میں شامل ہے، جہاں اسے دنیا بھر سے آنے والی درجنوں فلموں سے سخت مقابلہ درپیش ہوگا۔
فائنل شارٹ لسٹ رواں سال کے آخر میں جاری کی جائے گی، جب کہ حتمی نامزدگیاں اگلے سال کے آغاز میں متوقع ہیں۔
چاہے یہ فلم آسکر جیتے یا نہیں، ایک بات طے ہے — ہجرت نے سعودی سینما کو عالمی نقشے پر مزید نمایاں کر دیا ہے۔
کیونکہ کبھی کبھار سب سے بڑی "ہجرت” وہ نہیں ہوتی جو زمین پر ہوتی ہے، بلکہ وہ ہوتی ہے جو دل اور نسلوں کے بیچ سفر کرتی ہے۔
