اسلام آباد – پاکستان کے شمالی علاقوں میں تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 340 تک جا پہنچی ہے جبکہ حکام نے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں میں مزید تیزی پیدا کردی ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق درجنوں دیہات زیر آب آچکے ہیں جس کے باعث ہزاروں خاندان بغیر چھت، خوراک اور صاف پانی کے پھنسے ہوئے ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں، فوج کی مدد سے، دن رات کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ مقامات اور امدادی کیمپوں تک منتقل کیا جاسکے۔
امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ سڑکیں ٹوٹ چکی ہیں اور پل بہہ گئے ہیں، جس سے دور دراز علاقوں تک رسائی نہایت مشکل ہوگئی ہے۔ ہیلی کاپٹر اور کشتیاں ضروری سامان پہنچانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں جبکہ میڈیکل ٹیمیں بھی متاثرہ افراد کو ہنگامی طبی امداد فراہم کرنے کے لیے روانہ کر دی گئی ہیں۔
حکام کو خدشہ ہے کہ پہاڑی اور دور افتادہ وادیوں میں جاری سرچ اور ریسکیو آپریشن کے دوران ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ دریں اثنا، حکومت نے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے معاوضے کا اعلان کیا ہے اور متاثرہ سڑکوں کی فوری بحالی کی ہدایت دی ہے تاکہ امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹ نہ آئے۔
