پاکستانی ریپر طلحہ انجم نے نیپال میں کنسرٹ کے دوران بھارتی پرچم پکڑ کر لہرانے اور اسے اپنے کندھوں پر ڈالنے کے بعد سوشل میڈیا پر زبردست بحث چھیڑ دی۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب وہ اپنا گانا ’’کون طلحہ‘‘ پرفارم کر رہے تھے اور ہجوم میں سے کسی نے بھارتی ترنگا اسٹیج کی طرف پھینک دیا۔ انجم نے پرچم کو نظرانداز کرنے کے بجائے ہوا میں ہی پکڑ لیا اور پھر اسے اپنے اوپر ڈال لیا، جس کے فوراً بعد ویڈیوز وائرل ہونا شروع ہوگئیں۔
چند ہی منٹوں میں سوشل میڈیا پر مخالفت اور حمایت دونوں طرح کے ردِعمل سامنے آئے۔ ناقدین نے اسے موجودہ پاک بھارت تناؤ کے تناظر میں غیر ذمہ دارانہ قرار دیا، جبکہ حامیوں نے اسے فن اور انسانیت کی سرحدوں سے ماورا علامتی قدم قرار دیا۔
ردعمل پر بات کرتے ہوئے طلحہ انجم نے واضح مؤقف اپنایا کہ وہ اپنا یہ عمل دوبارہ بھی دہرائیں گے۔ انہوں نے کہا:
“میرے دل میں نفرت کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ میرا فن کسی سرحد کو نہیں مانتا۔ اگر بھارتی پرچم اٹھانے سے تنازع کھڑا ہوتا ہے تو ہونے دیں… میں یہ دوبارہ بھی کروں گا۔ میڈیا، جنگ بھڑکانے والی حکومتوں اور اُن کی پروپیگنڈا پالیسیوں کی مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ اردو ریپ ہمیشہ سرحدوں سے آزاد رہے گی۔”
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاک بھارت ثقافتی روابط اس سال انتہائی محدود ہوگئے ہیں۔ مئی کے تنازع کے بعد بھارتی پلیٹ فارمز نے پاکستانی موسیقی ہٹا دی، کئی پاکستانی فنکاروں اور کریئیٹرز کے اکاؤنٹس محدود کیے گئے، اور بھارتی شائقین وی پی این کے ذریعے پاکستانی مواد دیکھنے پر مجبور ہو گئے۔ یہاں تک کہ کرکٹ، جو دونوں ممالک کے درمیان کبھی کبھی نرم پل کا کردار ادا کرتی ہے، بھی کشیدہ صورتحال کا شکار رہی۔
اس پس منظر میں انجم کا یہ قدم مزید علامتی اہمیت اختیار کر گیا۔ ناقدین اسے غیر دانشمندانہ کہتے ہیں، جبکہ حامی اسے سیاسی سرحدوں کے خلاف ایک تخلیقی بغاوت سمجھتے ہیں۔ بہت سے لوگ اسے اس حقیقت کا اظہار قرار دے رہے ہیں کہ جنوبی ایشیا کی ثقافت ہمیشہ سیاست سے کہیں زیادہ آزاد رہی ہے۔
واقعہ تاحال توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور اس نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ کیا فنکاروں کو حساس سیاسی حالات میں بھی سرحدوں کو چیلنج کرنا چاہیے یا نہیں۔
