کراچی: پاکستان کی آٹو انڈسٹری نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت اپنی "قدامت پسند اور استحصالی” پالیسیوں پر نظرِثانی نہ کرے تو مزید غیر ملکی سرمایہ کار ملک چھوڑ سکتے ہیں۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یاماہا نے اچانک پاکستان میں اپنی سرگرمیاں ختم کر دیں۔ جاپانی کمپنی نے تقریباً دس برس قبل 10 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ مارکیٹ میں دوبارہ داخلہ کیا تھا۔ یاماہا نے مقامی پرزہ جات کی تیاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، بلکہ ہونڈا کے بعد انجن کی مقامی پیداوار کرنے والی واحد کمپنی بھی بنی۔ اس کے باوجود کمپنی نے ایسی پالیسیوں کو بنیاد بنا کر انخلاء کا فیصلہ کیا جنہیں صنعت کار ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔
پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA) کے ڈائریکٹر جنرل عبدل وحید خان کے مطابق حکومت کا وہ قانون جس کے تحت گاڑی ساز کمپنیوں کو خام مال اور پرزہ جات درآمد کرنے سے قبل سخت برآمدی اہداف پورے کرنے کی شرط عائد کی گئی ہے، بالکل غیر حقیقی ہے۔ ان کے بقول، "یہ قانون زمینی حقائق سے کٹا ہوا ہے اور پہلے سے بحران زدہ آٹو سیکٹر کے لیے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا ہے۔”
خان نے 2025 کے حالیہ موٹر وہیکل ڈویلپمنٹ ایکٹ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس کے تحت کاروباری تنازعات کو فوجداری جرائم کے زمرے میں شامل کرتے ہوئے گرفتاریوں اور طویل سزاؤں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ان کے مطابق، "معمولی کمرشل مسائل کو فوجداری کیسز میں بدل دینا غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے تباہ کن ہے۔”
پاکستان میں سرمایہ کاری کا ماحول پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔ پچھلے برسوں میں شیل، اوبر، کریم، مائیکروسافٹ اور ٹیلی نار جیسی بڑی عالمی کمپنیاں ملک سے جا چکی ہیں، جس سے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری برقرار رکھنے کی صلاحیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
دوسری جانب انڈس موٹر کمپنی (IMC) نے تجزیہ کاروں کو بتایا کہ حالیہ تباہ کن سیلاب کے باعث گاڑیوں کی فروخت سست پڑ گئی ہے اور اس کے اثرات آنے والے مہینوں میں مزید نمایاں ہوں گے۔ کمپنی کے مطابق اگر یہ قدرتی آفت پیش نہ آتی تو پاکستان کی کار مارکیٹ (بشمول استعمال شدہ درآمدی گاڑیاں) مالی سال 2026 میں 3 لاکھ یونٹس سے تجاوز کر سکتی تھی، جو مالی سال 2025 میں 2 لاکھ 23 ہزار 799 یونٹس رہی۔
