لاہور، 12 اگست: لاہور کے علاقے غازی آباد میں پیر کے روز پولیس کی فائرنگ سے دو افراد جاں بحق ہوگئے، حکام نے تصدیق کی۔ جاں بحق ہونے والوں کا تعلق ڈیرہ بگٹی ضلع سے بتایا جا رہا ہے، جن میں ایک مقامی اسکول ٹیچر بنگل بگٹی بھی شامل ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ علاقے میں پولیس آپریشن کے دوران پیش آیا، تاہم فائرنگ کے محرکات اور حالات تاحال واضح نہیں ہوسکے۔ عینی شاہدین کے مطابق واقعے کے وقت متعدد گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیں، جس کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ مہلک طاقت کے استعمال کا جواز تھا یا نہیں۔ پولیس ترجمان نے کہا، ’’معاملے کی انکوائری ہو رہی ہے، حقائق سامنے آنے پر تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔‘‘
مقامی کمیونٹی نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ بعض دعووں کے مطابق مقتولین غیر مسلح تھے۔ انسانی حقوق کے کارکنان نے بھی پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کیس میں مکمل احتساب کو یقینی بنایا جائے۔
جاں بحق افراد کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں، جبکہ واقعے کے بعد علاقے میں کسی بھی ممکنہ امن و امان کے مسئلے سے بچنے کے لیے سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
یہ واقعہ شہری علاقوں میں پولیس کے طرزِ عمل اور طاقت کے استعمال پر ایک بار پھر بحث کا باعث بن گیا ہے۔
