مالاکنڈ — 16 اگست 2025:
ہفتے کی رات دیر گئے ایک دلخراش واقعے میں نامعلوم مسلح افراد نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مفتی کفایت اللہ کے گھر پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ان کے بیٹے اور بیٹی جاں بحق ہوگئے جبکہ اہلِ خانہ کے دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق مفتی کفایت اللہ فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہوئے جبکہ ان کی اہلیہ کو بھی گولیاں لگیں۔ دونوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ وہ خطرے سے باہر ہیں۔ تاہم ان کے بیٹے اور بیٹی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ پولیس حکام کے مطابق حملے کی وجوہات جاننے اور ملزمان کی شناخت کے لیے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن بھی جاری ہے۔
سیاسی رہنماؤں نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور اس کی مذمت کی۔ جے یو آئی (ف) کے ترجمان نے حملے کو "بزدلانہ دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ سوشل میڈیا پر بھی واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور عوام نے حکومت سے سیاسی و مذہبی رہنماؤں کی حفاظت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
مفتی کفایت اللہ جے یو آئی (ف) کے ایک سینئر رہنما ہیں جو اس سے قبل بھی مختلف خطرات کا سامنا کرچکے ہیں۔ ان کی جماعت نے ملک بھر میں پرامن احتجاج اور جاں بحق افراد کے ایصالِ ثواب کے لیے دعاؤں کا اعلان کیا ہے۔
مالاکنڈ میں صورتحال کشیدہ ہے جبکہ مزید کسی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔
