شہر کے مصروف تجارتی مرکز گل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی اور عمارت کے جزوی انہدام کے سانحے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق اس افسوسناک واقعے میں جاں بحق افراد کی تعداد 18 سے بڑھ کر 26 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 18 سے 22 افراد زخمی بتائے جا رہے ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق 50 سے 70 افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جن میں بعض رپورٹس کے مطابق لاپتہ افراد کی تعداد 65 کے قریب ہے، جن کی تلاش کا عمل تاحال جاری ہے۔
حادثے کے نتیجے میں گل پلازہ میں قائم تقریباً 1,200 دکانیں مکمل طور پر جل کر تباہ ہو گئیں، جن میں گھریلو سامان، الیکٹرانکس، کپڑے، کھلونے اور پرفیوم سمیت دیگر قیمتی اشیاء شامل تھیں۔ شدید آگ کے باعث عمارت کا بڑا حصہ منہدم ہو چکا ہے، جس سے مالی نقصان کا حجم اربوں روپے تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ لگنے کے 24 سے 36 گھنٹے بعد اتوار اور پیر کی درمیانی شب یا صبح آگ پر قابو پا لیا گیا، تاہم عمارت تاحال غیر مستحکم ہے اور مزید گرنے کا خطرہ موجود ہے، جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں آگ لگنے کی ممکنہ وجوہات میں پلاسٹک فوم، کپڑے، پرفیوم جیسے آتش گیر مواد کی موجودگی اور ممکنہ الیکٹریکل شارٹ سرکٹ کو شامل کیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ متاثرہ خاندانوں اور تاجروں کے لیے امدادی اقدامات اور معاوضے کے اعلان پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ سانحہ گل پلازہ نے ایک بار پھر شہری علاقوں میں تجارتی عمارتوں کی حفاظت، فائر سیفٹی اقدامات اور حکومتی نگرانی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
