ملک کا سب سے بڑا افغان مہاجرین کیمپ مکمل طور پر خالی کر دیا گیا ہے اور حکام نے وہاں موجود گھروں کی مسماری شروع کر دی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق حکومتی پالیسی کے تحت نوٹسز جاری کیے جانے کے بعد رہائشیوں کو علاقے سے نکلنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
بہت سے خاندان اپنے مختصر سامان کے ساتھ پیدل یا چھوٹی گاڑیوں میں کیمپ چھوڑتے نظر آئے، جبکہ کئی افراد نے اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ انخلا کا عمل باوقار طریقے سے مکمل کیا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو ضروری مدد فراہم کی جائے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کیمپ وقت کے ساتھ بہت پھیل چکا تھا اور سیکیورٹی کے لحاظ سے بھی خطرناک ہو چکا تھا، اسی لیے اسے خالی کرانا ناگزیر تھا۔ بھاری مشینری کے ذریعے گھروں کو گرانے کا کام جاری ہے اور توقع ہے کہ چند روز میں پورا علاقہ صاف کر دیا جائے گا۔
اس پیش رفت کے بعد ملک میں افغان مہاجرین کے مستقبل اور ان کے ساتھ برتاؤ پر نئی بحث بھی شروع ہو گئی ہے، جبکہ حقوق کی تنظیمیں پائیدار اور انسانی بنیادوں پر حل کی ضرورت پر زور دے رہی ہیں۔
