اسلام آباد — وفاقی حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم کا ڈھانچہ تیار کرلیا ہے جس میں آئین کے متعدد اہم آرٹیکلز میں تبدیلیوں کی تجویز دی گئی ہے۔ ان ترامیم کا مقصد شفافیت میں اضافہ، صوبائی خودمختاری کو مضبوط کرنا اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان اختیارات کا بہتر توازن قائم کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ ترامیم آرٹیکل 51، 63A، 140A اور 160 سے متعلق ہیں۔ ان تبدیلیوں کے ذریعے قومی اسمبلی میں نشستوں کی منصفانہ تقسیم، ارکانِ پارلیمنٹ کی نااہلی کے قوانین میں وضاحت، بلدیاتی حکومتوں کو مزید اختیارات اور نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے تحت مالی وسائل کی شفاف تقسیم کو یقینی بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم مقامی سطح پر مؤثر حکمرانی اور عوامی شمولیت کے نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ مبصرین کے مطابق یہ اقدام جمہوری نظام کو مزید مستحکم اور جواب دہ بنانے کی سمت ایک مثبت قدم
ہے۔
