کرکٹ میں چھوٹی چھوٹی روایات بظاہر معمولی لگتی ہیں، مگر پاک-بھارت مقابلوں میں ان کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ 14 ستمبر کو دبئی میں کھیلے گئے ایشیا کپ میچ میں کچھ ایسا ہی ہوا جب ایک عام سی روایت—مصافحہ—نہ ہونے کی وجہ سے ایک نئی بحث چھڑ گئی۔
میچ کے آغاز پر ٹاس کے وقت عام طور پر دونوں کپتان ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہیں۔ اس بار ایسا نہیں ہوا۔ خاموشی رہی، اور دونوں جانب سے سرد مہری کا مظاہرہ کیا گیا۔ اگرچہ میچ اپنے معمول کے مطابق شروع ہوگیا، مگر یہ لمحہ سب نے نوٹ کیا۔
میچ کے اختتام پر جب بھارت نے سات وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تو شائقین کو توقع تھی کہ دونوں ٹیمیں روایت کے مطابق ہاتھ ملائیں گی۔ پاکستان کے کھلاڑی اور کپتان آغا سلمان میدان کے کنارے کھڑے انتظار کرتے رہے، مگر بھارتی ٹیم، روہت شرما کی قیادت میں، سیدھا پویلین واپس چلی گئی۔ کوئی مصافحہ نہیں، کوئی ملاقات نہیں۔
پاکستان کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے بعد میں میڈیا کو بتایا کہ ان کی ٹیم تیار کھڑی تھی، لیکن بھارتی کھلاڑی پہلے ہی جا چکے تھے۔ ان کے الفاظ میں، "ہم موجود تھے، مگر بھارتی ٹیم مصافحہ کیے بغیر جا چکی تھی۔”
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اس معاملے پر باضابطہ احتجاج درج کرایا ہے۔ بورڈ کے ایک عہدیدار نے کہا: "مصافحہ محض ایک روایت نہیں بلکہ کھیل کی روح اور حریف کا احترام ظاہر کرتا ہے۔”
اس معاملے میں مزید پیچیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب یہ خبریں آئیں کہ میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ نے دونوں ٹیموں کو پہلے ہی مصافحے سے گریز کرنے کی ہدایت دی تھی تاکہ تناؤ کم رہے۔ پی سی بی کا کہنا ہے کہ ایسا ہی ہوا تھا، لیکن انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے بعض ذرائع اس حوالے سے مختلف موقف پیش کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ معاملہ زبردست بحث کا سبب بن گیا ہے۔ بھارتی شائقین کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم محض ہدایات پر عمل کر رہی تھی، جب کہ پاکستانی فینز اس کو توہین اور کھیل کے آداب کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔
یہ تنازعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پاک-بھارت مقابلوں میں صرف رنز اور وکٹیں ہی نہیں بلکہ ہر اشارہ اور ہر عمل ایک علامت بن جاتا ہے۔ اور اس دن دبئی کے اسٹیڈیم میں سب سے نمایاں علامت وہی تھی—ایک مصافحہ جو کبھی نہ ہوا۔
