اسلام آباد: پاکستان میں مون سون کی طوفانی بارشوں اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیلابوں، لینڈ سلائیڈز اور کلاؤڈ برسٹ کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 660 تک جا پہنچی ہے۔ ملک کے مختلف صوبوں اور خطوں سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
قومی آفات مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں خیبرپختونخوا میں 392 ہوئیں، جہاں ضلع بونیر سب سے زیادہ متاثر ہوا اور 217 اموات ریکارڈ کی گئیں۔ پنجاب میں 164، گلگت بلتستان میں 32، سندھ میں 29، بلوچستان میں 20، آزاد کشمیر میں 15 جبکہ اسلام آباد میں 8 افراد جاں بحق ہوئے۔
ملک بھر میں 935 افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں سب سے زیادہ تعداد پنجاب (582) کی ہے۔ ہزاروں مکانات تباہ یا جزوی طور پر متاثر ہوچکے ہیں، جن میں گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا نمایاں ہیں۔
خیبرپختونخوا میں بدترین صورتحال
کے پی میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی۔ صوابی میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث کم از کم 15 افراد اور کئی گاڑیاں پانی میں بہہ گئیں، جبکہ پشاور میں مسلسل بارش سے نالے ابل پڑے، گھروں میں پانی داخل ہوگیا اور ایک اسکول کی دیوار گر گئی۔
بونیر میں اسکول اور گھروں کو نقصان پہنچا۔ پیر بابا کے علاقے بشنئی گاؤں کا نصف حصہ ملبے اور پتھروں تلے دب گیا، جہاں 60 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔
مزید افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب پاک فوج کا ایک ہیلی کاپٹر ریسکیو مشن کے دوران گر کر تباہ ہوگیا، جس میں دو پائلٹس سمیت پانچ افسر شہید ہوئے۔
پنجاب اور دیگر علاقے متاثر
پنجاب کے اضلاع چکوال، کلر کہار، خوشاب اور راجن پور شدید متاثر ہوئے، جہاں نالوں میں طغیانی اور دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے سے درجنوں دیہات زیرِ آب آگئے۔ ڈیرہ غازی خان اور تونسہ میں نشیبی علاقے خالی کرائے گئے۔
آزاد کشمیر میں پونچھ یونیورسٹی کی لیکچرر ڈاکٹر گل لالہ اپنی گاڑی سمیت نالے کے تیز بہاؤ میں بہہ گئیں۔ نیلم ویلی میں ایک گاڑی دریا میں جا گری، جس کے نتیجے میں پانچ افراد جاں بحق ہوئے۔
گلگت بلتستان میں بھی درجنوں مکانات زمین بوس ہوگئے جبکہ گریس ویلی اتھمقام میں ریسکیو کارروائیاں بارش کے باعث متاثر ہوئیں۔
امدادی کارروائیاں اور حکومتی اقدامات
خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اعلان کیا کہ وہ اپنی ایک ماہ کی تنخواہ متاثرین کے نام کریں گے جبکہ وزراء، ارکانِ اسمبلی اور افسران نے بھی اپنی تنخواہوں کا حصہ عطیہ کرنے کا اعلان کیا۔ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی پی ڈی ایم اے فنڈ قائم کیا گیا ہے تاکہ شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدایت دی کہ وفاقی ادارے متاثرہ علاقوں میں فوری ریلیف فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ "اس مشکل گھڑی میں کوئی صوبائی یا وفاقی تفریق نہیں، متاثرین کی بحالی ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے۔”
وفاقی وزراء اطلاعات کے وزیر عطا اللہ تارڑ اور وزیر توانائی مصدق ملک نے یقین دہانی کرائی کہ تمام سڑکیں جلد کھول دی جائیں گی اور متاثرین کو ادویات، خوراک اور پناہ گاہیں فراہم کی جا رہی ہیں۔
قوم کا امتحان
مون سون کی حالیہ تباہ کاریوں نے ایک بار پھر پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کا احساس دلایا ہے۔ بونیر، صوابی اور پنجاب کے نشیبی علاقے ابھی تک ریسکیو ٹیموں کے منتظر ہیں، جبکہ ہزاروں خاندان اپنے پیاروں کا غم منانے کے ساتھ ساتھ چھت سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔
وزیر اعظم کے الفاظ میں:
“یہ خیرات نہیں بلکہ قومی فریضہ ہے کہ ہم اپنے مصیبت زدہ پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کی مدد کریں۔”
