چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ہفتے کے روز کہا کہ پاکستان ایک پرامن، محفوظ اور خوشحال خطے کے قیام کیلئے مکمل طور پر پُرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے دفاعی سفارت کاری اور تزویراتی اشتراک کو مزید فروغ دے گا۔
اسلام آباد میں منعقدہ ریجنل چیفس آف ڈیفنس اسٹاف کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے امریکہ، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان سے آئے اعلیٰ فوجی وفود کا خیرمقدم کیا۔
"تعلقات مضبوط، امن محفوظ” کے عنوان سے ہونے والی اس کانفرنس میں انسداد دہشت گردی، مشترکہ فوجی تربیت اور سائبر و ہائبرڈ خطرات جیسے جدید چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شرکاء نے خطے کی سلامتی کی صورتحال، وسطی اور جنوبی ایشیا کے بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے، اور سرحد پار خطرات سے نمٹنے کیلئے اجتماعی حکمت عملی پر گفتگو کی۔
فیلڈ مارشل منیر نے کہا، "آج کے دور میں جب خطرات ہائبرڈ اور پیچیدہ نوعیت کے ہیں، تو فوجی تعاون اور باہمی اعتماد پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر ایک محفوظ اور خوشحال خطے کی تعمیر کیلئے پوری سنجیدگی سے کام کرتا رہے گا۔
شرکاء نے کانفرنس کے انعقاد پر پاکستان کی میزبانی، قیادت اور وژن کو سراہا اور عزم ظاہر کیا کہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور سائبر خطرات جیسے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیے میں علاقائی امن، تعاون اور دفاعی یکجہتی کو فروغ دینے کے پاکستانی کردار کو سراہتے ہوئے پائیدار تزویراتی تعاون پر زور دیا گیا۔
