ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ میں ایک اعلیٰ سطحی سیاسی فورم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پاکستان 2030 تک اپنی 60 فیصد توانائی کی ضروریات متبادل اور قابل تجدید ذرائع سے پوری کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے ایجنڈا 2030 اور پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) پر پوری طرح عمل پیرا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے بی آئی ایس پی، ری چارج پاکستان اور لیونگ انڈس جیسے اقدامات کا بھی ذکر کیا جو ماحولیات، معیشت اور سماجی بہتری کے لیے جاری ہیں۔
اسحاق ڈار نے زور دیا کہ ترقی پذیر ممالک کو پائیدار ترقی کے لیے عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات، قرضوں میں نرمی، اور رعایتی بنیادوں پر مالیاتی سہولیات کی ضرورت ہے تاکہ وہ SDGs کے لیے مطلوبہ فنڈنگ حاصل کر سکیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات، کشمیر اور فلسطین پر بات چیت
ڈار نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات میں پاکستان کے کثیرالجہتی نظام پر غیرمتزلزل یقین کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازع، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور پاکستان میں بیرونی حمایت یافتہ دہشتگردی پر تفصیل سے بات کی گئی۔
انہوں نے فلسطین میں فوری جنگ بندی اور دو ریاستی حل کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اور اقوام متحدہ کے اسلاموفوبیا سے متعلق نمائندے کی تقرری کا خیرمقدم کیا۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار 28 اور 29 جولائی کو نیویارک میں ہونے والی دو ریاستی حل کانفرنس میں بھی پاکستان کی نمائندگی کریں گے، جو سعودی عرب اور فرانس کے اشتراک سے منعقد ہو رہی ہے۔
نیویارک اور واشنگٹن میں قیام کے دوران وہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی رہنماؤں سے متعدد دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے۔ ان کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی ملاقات متوقع ہے۔
