ڈھاکہ میں پیر کے روز بنگلہ دیش ایئر فورس کا ایک تربیتی طیارہ میل اسٹون اسکول اینڈ کالج کی عمارت سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد جاں بحق اور 171 سے زائد زخمی ہو گئے۔
فوج کے ترجمان کے مطابق F-7 BGI جیٹ طیارہ معمول کی تربیتی پرواز پر 1:06 بجے کورمیٹولا ایئربیس سے روانہ ہوا تھا، مگر کچھ ہی دیر بعد تکنیکی خرابی کا شکار ہو گیا۔
لیفٹیننٹ کرنل سمیع الدولا چودھری نے بتایا کہ پائلٹ نے آبادی سے بھرے علاقوں سے طیارہ دور لے جانے کی کوشش کی، مگر طیارہ اسکول کی دو منزلہ عمارت سے ٹکرا گیا۔ پائلٹ بھی حادثے میں جان کی بازی ہار گیا۔
فوج نے حادثے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
قومی سوگ کا اعلان
واقعے کے بعد حکومت نے ایک دن کے قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ تمام سرکاری، نیم سرکاری، خود مختار اداروں اور بیرون ملک سفارتخانوں میں قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔
ملک بھر میں تمام مذاہب کی عبادت گاہوں میں خصوصی دعائیں کی جائیں گی۔
نگراں وزیر اعظم محمد یونس نے حادثے کو ایک "ناقابل تلافی قومی سانحہ” قرار دیتے ہوئے متاثرین اور ان کے خاندانوں کے لیے مکمل مدد کی یقین دہانی کرائی۔
ہنگامی اقدامات اور عینی شاہدین کے بیانات
بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (BGB) کی تین پلاٹونز کو جائے وقوعہ پر تعینات کیا گیا تاکہ امدادی سرگرمیوں اور امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔
ڈھاکہ میڈیکل کالج اسپتال میں کئی زخمیوں کو منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹر بدھن سرکر کے مطابق ایک تیسری جماعت کا طالبعلم مردہ حالت میں لایا گیا جبکہ دیگر کی حالت نازک ہے۔
ایک استاد مسعود طارق نے کہا: "میں بچوں کو لینے گیٹ تک گیا ہی تھا کہ ایک زوردار دھماکہ ہوا اور ہر طرف آگ اور دھواں چھا گیا۔”
طیارے کی تفصیل اور پس منظر
F-7 BGI چین کے J-7 طیارے کا جدید ورژن ہے، جو سوویت MiG-21 پر مبنی ہے۔ بنگلہ دیش نے 2011 میں ان طیاروں کے لیے معاہدہ کیا تھا، اور 2013 تک 16 طیارے حاصل کیے جا چکے تھے۔
یہ حادثہ ایک ماہ قبل احمد آباد، بھارت میں ہونے والے فضائی حادثے کے بعد پیش آیا ہے، جہاں ایک ایئر انڈیا طیارہ میڈیکل کالج کی ہاسٹل پر گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس میں 260 سے زائد افراد جان بحق ہوئے تھے۔
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے حادثے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بنگلہ دیشی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے
