ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے میں روایتی حریف بھارت سے میچ سے قبل قومی کرکٹ ٹیم نے دبئی میں ایک اہم اجلاس کیا جس میں کھلاڑیوں نے اپنی حالیہ کارکردگی پر کھل کر بات کی۔
ذرائع کے مطابق بیٹنگ لائن اپ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ گزشتہ میچز میں اپنی صلاحیتوں کے مطابق پرفارم نہیں کر سکے۔ بلے بازوں نے تسلیم کیا کہ سنگلز اور ڈبلز کے ذریعے اسٹرائیک روٹیٹ کرنے میں ناکامی رہی جبکہ شراکت داری قائم نہ ہونے کی وجہ سے دباؤ بڑھتا گیا۔
بولرز نے بھی اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ دبئی کی وکٹ اور کنڈیشنز آسان نہیں ہیں، خصوصاً بھارت جیسی مضبوط بیٹنگ لائن اپ کے خلاف مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ تاہم بولرز نے یقین دلایا کہ اگر لائن اور لینتھ پر قابو رکھا جائے تو رنز روکنے اور وکٹیں لینے کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے ٹیم پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں میں سپر فور مرحلے میں کم بیک کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کھلاڑی بنیادی اصولوں پر فوکس رکھیں، دباؤ میں پُرسکون رہیں اور پچھلی غلطیوں سے سبق سیکھیں۔
قومی ٹیم نے گروپ مرحلے میں تین میں سے دو میچز جیتے تاہم بھارت کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ آئندہ ٹاکرا صرف پوائنٹس کے لیے نہیں بلکہ اعتماد اور ردعمل کے طور پر بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
اجلاس کے اختتام پر کھلاڑیوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اسٹرائیک روٹیشن بہتر بنائیں گے، مضبوط شراکت داریاں قائم کریں گے اور فیلڈنگ میں بھرپور توانائی کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ شائقین اب پرامید ہیں کہ ٹیم میدان میں ان وعدوں کو عملی شکل دے گی۔
