ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے شام کے نئے صدر احمد الشرا کا کریملن میں استقبال کیا۔ یہ ملاقات بشارالاسد کی معزولی کے بعد روس اور شام کے درمیان پہلا باضابطہ رابطہ ہے۔
احمد الشرا، جو کبھی بشارالاسد کے خلاف برسرِپیکار باغی تحریک کے رہنما تھے، نے کہا کہ وہ روس کے ساتھ تعلقات کو “نئے سرے سے بحال اور ازسرنو متعین” کرنا چاہتے ہیں۔
“ہم روس کے ساتھ ایسے تعلقات چاہتے ہیں جو شام کی خودمختاری، علاقائی وحدت اور دیرپا استحکام پر مبنی ہوں،” الشرا نے ملاقات کے دوران کہا۔
روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے اس بات کی تصدیق کی کہ ماسکو نے بشارالاسد اور ان کے خاندان کو انسانی بنیادوں پر پناہ دی ہے، تاہم روس شام کی داخلی سیاست میں مداخلت نہیں کر رہا۔
پیوٹن نے ملاقات میں اسد کا ذکر نہیں کیا بلکہ زور دیا کہ روس اور شام کے تعلقات دہائیوں پرانے ہیں، جو محض سیاسی مفادات پر نہیں بلکہ تاریخی بنیادوں پر قائم ہیں۔
دونوں ممالک نے توانائی کے شعبے، تیل کی بحالی اور سیکیورٹی تعاون پر بات چیت کی۔ روس شام میں اپنے دو بڑے فوجی اڈے — طرطوس نیول بیس اور حمیمیم ایئر بیس — برقرار رکھے ہوئے ہے، جو اس کی خطے میں موجودگی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، الشرا کا روس کی جانب جھکاؤ ایک حکمتِ عملی پر مبنی قدم ہے تاکہ شام کی تعمیرِ نو کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر تعلقات کو متوازن رکھا جا سکے۔
