اسلام آباد — پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک نئی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کی سینیئر رہنما سینیٹر شیری رحمٰن نے خبردار کیا ہے کہ اگر (ن) لیگ نے پیپلز پارٹی کی “واضح حمایت” حاصل نہ کی تو سینیٹ میں اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
شیری رحمٰن نے کہا کہ “اگر آپ یہ اتحاد توڑنا چاہتے ہیں تو یاد رکھیں کہ حکومت کے بینچوں پر ہمارا بیٹھنا یقینی نہیں۔ یہ نہ سمجھیں کہ ہم ہمیشہ آپ کو سہارا دیتے رہیں گے۔”
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سینیٹ کی سب سے بڑی جماعت ہے، اور اگر (ن) لیگ نے اسے نظر انداز کیا تو قانون سازی میں مشکلات پیدا ہوں گی۔
شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ معافی اور درگزر اپنی جگہ، لیکن جب ہماری قیادت، بالخصوص چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور ان کی ہمشیرہ پر بلاوجہ تنقید کی جاتی ہے تو ہمارے کارکنوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ “یہ معاملہ سندھ اور پنجاب کا نہیں، بلکہ وفاق اور عوام کا ہے۔ سیلاب متاثرین کی مدد کو صوبائی مسئلہ بنا دینا ناانصافی ہے۔”
شیری رحمٰن نے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف خود ان کے کام کی تعریف کر چکے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پارٹی کا فیصلہ مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کرے گی، کیونکہ پیپلز پارٹی حکومت کو غیر مستحکم نہیں کرنا چاہتی۔
پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے بھی مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “یاد رکھیں، آپ کو دوبارہ بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کی ضرورت پڑے گی۔ عوام کے دل پوسٹر لگا کر نہیں بلکہ کارکردگی سے جیتے جاتے ہیں۔”
اس کے جواب میں لاہور میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ “اگر میں پنجاب کے بارے میں بات نہیں کروں گی تو پھر کون کرے گا؟ میں چاہتی ہوں کہ دوسرے صوبے بھی پنجاب کی طرح ترقی کریں۔”
ان کا کہنا تھا کہ ترقی اور خوشحالی ہر پاکستانی کا حق ہے، کسی کو اس کے لیے بھیک مانگنی نہیں چاہیے۔
