مشہور یوٹیوبر ڈکی بھائی (سعد الرحمن) کو بدھ کے روز اس کیس میں ضمانت مل گئی جس میں ان پر ایسی آن لائن ایپ کی تشہیر کا الزام ہے جو تفتیشی اہلکاروں کے مطابق غیر قانونی جوا پلیٹ فارم کے طور پر کام کر رہی تھی۔ لاہور کی عدالت نے ضمانت منظور کرتے ہوئے تحقیقات جاری رکھنے کی ہدایت دی۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ مذکورہ ایپ لوگوں کو گیم کے نام پر پیسے لگا کر کھیلنے پر اُکسا رہی تھی، جس سے متعدد صارفین کو مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اسپانسرڈ ویڈیو میں شرکت پر ڈکی بھائی کا نام بھی کیس میں شامل کیا گیا۔
سماعت کے دوران ان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ یوٹیوبر کو ایپ کی غیر قانونی نوعیت کا علم نہیں تھا اور انہوں نے یہ پروموشن عام اسپانسرشپ کے تحت کی۔ پراسیکیوشن نے مؤقف اپنایا کہ انفلوئنسرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی برانڈ کی قانونی حیثیت کی تصدیق کریں، خصوصاً جب مالی معاملات شامل ہوں۔
عدالت نے ضمانت منظور کرتے ہوئے ڈکی بھائی کو تفتیش میں مکمل تعاون کرنے کی ہدایت کی۔ یوٹیوبر نے تمام الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ قانونی عمل کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بحث کا باعث بھی بنا ہے کہ آیا پاکستان میں ڈیجیٹل اشتہارات اور اسپانسرڈ مواد کے لیے سخت قواعد کی ضرورت ہے یا نہیں۔
