پشاور — ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس ٹریننگ اسکول پر خوارجی دہشتگردوں نے بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، جسے پولیس جوانوں نے جرات اور بہادری سے ناکام بنا دیا۔ کارروائی کے دوران 7 پولیس اہلکار شہید جبکہ 6 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔
سنٹرل پولیس آفس کے مطابق حملہ آوروں نے رتہ کلاچی کے علاقے میں واقع پولیس ٹریننگ اسکول کے گیٹ سے بارود سے بھرا ٹرک ٹکرایا، دھماکے کے بعد مختلف یونیفارمز میں ملبوس دہشتگرد عمارت کے اندر داخل ہوگئے۔
پولیس اہلکاروں نے بھرپور جوابی کارروائی کی اور کئی گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ دہشتگرد مسلسل دستی بم پھینکتے رہے جبکہ ڈی پی او صاحبزادہ سجاد احمد اور آر پی او سید اشفاق انور خود موقع پر کارروائی کی نگرانی کرتے رہے۔
پولیس اور سکیورٹی فورسز نے مشترکہ طور پر پانچ گھنٹے طویل آپریشن کیا، جس میں 6 دہشتگرد مارے گئے۔ ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، بارودی مواد، خودکش جیکٹس اور گولہ بارود برآمد ہوا۔
حکام کے مطابق سات زخمی پولیس اہلکاروں کو اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ زیر تربیت تمام ریکروٹس کو بحفاظت محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ ڈی پی او کے مطابق ٹریننگ اسکول میں تقریباً 200 افراد موجود تھے جن میں ٹرینی، اساتذہ اور اسٹاف شامل تھے۔
آئی جی پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے بتایا کہ علاقے کو کلیئر قرار دے دیا گیا ہے اور سرچ اینڈ کلین آپریشن جاری ہے۔ انہوں نے شہید اہلکاروں کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور کہا کہ "ہمارے جوانوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی”۔
کامیاب کارروائی میں حصہ لینے والے افسران اور اہلکاروں کے لیے انعامات کا اعلان بھی کیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دہشتگرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے دہشتگردوں کے ناپاک عزائم ناکام بنا دیے۔ انہوں نے شہدا کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ "خیبرپختونخوا پولیس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ناقابلِ فراموش قربانیاں دی ہیں، قوم ہمیشہ ان کے عزم و حوصلے کو سلام کرتی رہے گی۔”
